المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
التَّعَوُّذُ مِنْ شَرِّ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ باب: کان اور آنکھ کے شر سے پناہ کی دعا۔
حدیث نمبر: 1974
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا الخَضِر بن أبان الهاشمي، حدثنا أبو أحمد محمد بن عبد الله الزُّبيري، حدثنا سعد بن أوس، عن بلال بن يحيى العَبْسي، عن شُتَير بن شَكَل، عن أبيه شَكَل بن حُميد، قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ، فقلت: يا رسول الله، علِّمني تَعوُّذًا أتعوّذُ به، فأخذَ بكفّي، فقال: "قُل: اللهمَّ إني أعوذُ بك من شرِّ سَمْعي، ومن شرِّ بَصَري، ومن شرِّ نَفْسي، ومن شرِّ مَنِيّي"، حتى حَفِظتُها (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا شکل بن حمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسی دعا سکھائیے جس کے ذریعے میں پناہ مانگوں، تو آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ”کہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنی سماعت کے شر سے، اپنی بصارت کے شر سے، اپنے نفس (دل) کے شر سے اور اپنی منی (شہوت و جنسی اعضاء) کے شر سے“، یہاں تک کہ میں نے اسے حفظ کر لیا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الخَضِر بن أبان الهاشمي، لكنه متابع.
حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اگرچہ خضر بن ابان کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، مگر اسے دیگر متابعات حاصل ہیں۔
وأخرجه أحمد 24/ (15542)، وعنه أبو داود (1551)، وأخرجه الترمذي (3492) عن أحمد بن منيع، كلاهما (أحمد بن حنبل وأحمد بن منيع) عن أبي أحمد محمد بن عبد الله الزبيري، بهذا الإسناد وقال الترمذي: حديث حسن غريب. وزادا في روايتهما: "ومن شر لساني ومن شرّ قلبي"، ولم يقولا: "ومن شر نفسي".
حکم / درجۂ حدیث: امام احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے اسے روایت کیا ہے، ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔ ان روایات میں "نفس کے شر" کی جگہ "زبان اور دل کے شر" کا ذکر ہے۔
وأخرجه أحمد (15541)، وأبو داود (1551)، والنسائي (7826) من طريق وكيع بن الجرّاح، والنسائي (7827) من طريق أبي نُعيم الفضل بن دُكين، كلاهما عن سعد بن أوس، به. ولفظهما كلفظ ابن حنبل وابن منيع عن الزُّبيري.
حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے وکیع اور ابونعیم کے طریق سے روایت کیا ہے، جس کے الفاظ امام احمد کی روایت کے مشابہ ہیں۔
وقوله: "ومن شر مَنِيّي" أي: من شرّ غَلَبة منيِّي حتى لا أقع في الزني، والنظر إلى المحارم.
لغوی تشریح: "شرّ منِيّي" (منی کے شر) سے مراد جنسی شہوت کا غلبہ ہے تاکہ انسان زنا اور نامحرموں کو دیکھنے جیسے گناہوں سے بچ سکے۔
حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اگرچہ خضر بن ابان کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، مگر اسے دیگر متابعات حاصل ہیں۔
وأخرجه أحمد 24/ (15542)، وعنه أبو داود (1551)، وأخرجه الترمذي (3492) عن أحمد بن منيع، كلاهما (أحمد بن حنبل وأحمد بن منيع) عن أبي أحمد محمد بن عبد الله الزبيري، بهذا الإسناد وقال الترمذي: حديث حسن غريب. وزادا في روايتهما: "ومن شر لساني ومن شرّ قلبي"، ولم يقولا: "ومن شر نفسي".
حکم / درجۂ حدیث: امام احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے اسے روایت کیا ہے، ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔ ان روایات میں "نفس کے شر" کی جگہ "زبان اور دل کے شر" کا ذکر ہے۔
وأخرجه أحمد (15541)، وأبو داود (1551)، والنسائي (7826) من طريق وكيع بن الجرّاح، والنسائي (7827) من طريق أبي نُعيم الفضل بن دُكين، كلاهما عن سعد بن أوس، به. ولفظهما كلفظ ابن حنبل وابن منيع عن الزُّبيري.
حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے وکیع اور ابونعیم کے طریق سے روایت کیا ہے، جس کے الفاظ امام احمد کی روایت کے مشابہ ہیں۔
وقوله: "ومن شر مَنِيّي" أي: من شرّ غَلَبة منيِّي حتى لا أقع في الزني، والنظر إلى المحارم.
لغوی تشریح: "شرّ منِيّي" (منی کے شر) سے مراد جنسی شہوت کا غلبہ ہے تاکہ انسان زنا اور نامحرموں کو دیکھنے جیسے گناہوں سے بچ سکے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1974 سے ماخوذ ہے۔