حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إبراهيم بن يوسف الرازي، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا أبو خالد الأحمَر، عن ابن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ كان يقولُ في دُعائه: "اللهمَّ إني أعوذ بك من جارِ السُّوء في دار المُقامةِ، فإنَّ جارَ الباديةِ يَتحوَّلُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد تابعَه عبد الرحمن بن إسحاق عن المَقبُري:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد تابعَه عبد الرحمن بن إسحاق عن المَقبُري:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی دعا میں یہ فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ، فَإِنَّ جَارَ الْبَادِيَةِ يَتَحَوَّلُ» ”اے اللہ! میں مستقل رہائش گاہ (گھر) میں برے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، کیونکہ بستی یا سفر کا پڑوسی تو بدل جاتا ہے (وہاں سے کوچ ممکن ہے)۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا عفّان، حدثنا وُهَيب، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، قال: كان رسولُ الله ﷺ يقول: "استَعيِذوا باللهِ من شَرّ جار (1) المُقام، فإن جارَ المسافر إذا شاء أن يُزايِلَ زايَل" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”مستقل رہائش والے پڑوسی کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ مسافر پڑوسی تو جب چاہے جدا ہو جاتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔