حدیث نمبر: 1975
أخبرنا أبو الحسن محمد بن أحمد الحَنْظَلي ببغداد، حدثنا أبو قِلابة الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا عُثمان الشّحّام، حدثني مُسلم بن أبي بَكْرة، قال: سَمِعَني أبي وأنا أقولُ: اللهم إني أعوذُ بك من الهَمّ والكَسَل وعذاب القَبر، فقال: يا بُنيّ، ممَّن سمعتَ هذا؟ قلت: سمعتك تقولُهن، قال: الْزَمْهنّ، فإني سمعتُهنّ من رسول الله ﷺ يقولُهنَّ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے بیٹے مسلم بن ابوبکرہ کی روایت ہے کہ میرے والد نے مجھے یہ کہتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں فکر و پریشانی، سستی اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، تو انہوں نے پوچھا: اے میرے بیٹے! تم نے یہ کلمات کس سے سنے ہیں؟ میں نے کہا: میں نے آپ ہی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے، انہوں نے فرمایا: ”انہیں لازم پکڑ لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہی کلمات کہتے ہوئے سنا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1975
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل عثمان الشَّحّام وأبي قِلابة. وهو عبد الملك بن محمد أبو عاصم النبيل: هو الضحاك بن مَخلَد. وقد روى هذا الحديث جماعة غير أبي عاصم، فقالوا في الدعاء: "اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر" فذكروا "الكفر والفقر" بدل "الهمّ والكسل" كما تقدَّم برقم (99)، ...» [ترقيم الرساله 1975] [ترقيم الشركة 1960]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي من أجل عثمان الشَّحّام وأبي قِلابة. وهو عبد الملك بن محمد أبو عاصم النبيل: هو الضحاك بن مَخلَد. وقد روى هذا الحديث جماعة غير أبي عاصم، فقالوا في الدعاء: "اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر" فذكروا "الكفر والفقر" بدل "الهمّ والكسل" كما تقدَّم برقم (99)، وهو روايةٌ عن أبي عاصم أيضًا كما تقدَّم برقم (940).
حکم / درجۂ حدیث: عثمان الشحام اور ابوقلابہ کی وجہ سے یہ سند قوی ہے۔ بعض راویوں نے "غم اور سستی" کی جگہ "کفر اور فقر" کے الفاظ بیان کیے ہیں۔
وأخرجه الترمذي (3503)، والنسائي (7841) عن محمد بن بشار، عن أبي عاصم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام ترمذی اور نسائی نے اسے محمد بن بشار کے طریق سے ابوعاصم النبیل کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حديث حسن غريب، وليس في رواية النسائي ذكر الهمّ.
حکم / درجۂ حدیث: ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا، جبکہ نسائی کی روایت میں "غم" (پریشانی) کا ذکر نہیں ہے۔
وقد روي مثلُ لفظ المصنف هنا بذكر الهم والكسل وعذاب القبر مع أمور أخرى من حديث عائشة أم المؤمنين عند الترمذي (3495)، وقال: حديث حسن صحيح، وسيأتي عند المصنف برقم (2007) دون ذكر الهمّ.
حکم / درجۂ حدیث: حضرت عائشہؓ کی ایک روایت میں غم، سستی اور عذابِ قبر کا ذکر ہے جسے ترمذی نے "حسن صحیح" کہا ہے۔
ومن حديث زيد بن أرقم عند الطبري في تهذيب الآثار" في مسند عمر بن الخطاب 2/ 586، والبغوي في "شرح السنة" (1358)، وفي "تفسيره" 8/ 439. وهو في "صحيح مسلم" (2722) أيضًا لكن دون ذكر الهمِّ.
حوالہ / مصدر: حضرت زید بن ارقمؓ کی روایت مسلم میں بھی ہے، مگر اس میں "غم" کا لفظ موجود نہیں ہے۔
ومن حديث أنس بن مالك كما تقدَّم بيانه برقم (1965) حيث جاء في بعض طرقه الاستعاذة من الهم والكسل، وفي بعضها الاستعاذة من عذاب القبر، كما أوضحناه هناك.
متابعات و شواہد: حضرت انسؓ کی سابقہ روایت (1965) میں بھی بعض جگہ سستی اور بعض جگہ عذابِ قبر سے پناہ کا ذکر گزر چکا ہے۔
وللاستعاذة من الكسل وعذاب القبر شواهد قدمناها عند حديث أم سلمة السالف برقم (1943). وللاستعاذة من الكفر والفقر شاهد من حديث أنس المتقدم برقم (1965).
متابعات و شواہد: سستی، عذابِ قبر، کفر اور فقر سے پناہ کے شواہد حضرت ام سلمہؓ اور حضرت انسؓ کی روایات میں پہلے بیان ہو چکے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1975 سے ماخوذ ہے۔