حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله بن مُسلم، حدثنا حجاج بن مِنهال، حدثنا عبد الله بن عمر النُّمَيري، عن يونس بن يزيد الأَيْلي، حدثني الحَكَم بن عبد الله الأَيْلي، عن القاسم بن محمد، عن عائشة، قالت: دخَل عليَّ أبو بكر فقال: هل سمعتِ من رسولِ الله ﷺ دعاءً علَّمَنِيه؟ قلتُ: ما هو؟ قال: كان عيسى ابنُ مريم يُعلِّمه أصحابَه، قال: "لو كان على أحدِكُم جبلُ ذهبٍ دَينًا، فدعا اللهَ بذلك، لقَضاه اللهُ عنه: اللهمَّ فارجَ الهَمّ، كاشِفَ الغَمّ، مُجيبَ دعوةِ المُضطرين، رحمنَ الدنيا والآخرةِ (1) ورَحِيمَهما، أنت تَرحمُني فارحمْني رحمةً تُغنِيني بها عن رحمةِ مَن سِواكَ". قال أبو بكر الصديق: وكانت عليَّ بقيةٌ من الدَّين، وكنتُ للدَّيْن كارهًا، فكنتُ أدعُو بذلك، فأتاني اللهُ بفائدةٍ فقضاهُ اللهُ عنّي، قالت عائشةُ: [كان] لأسماءَ بنتِ عُميسٍ عليَّ دينارٌ وثلاثةُ دراهمَ، فكانت تدخُل علي فأستحيي أن أنظُر في وجهها، لأني لا أجدُ ما أَقضيها، فكنتُ أدعُو بذلك، فما لبثتُ إِلَّا يسيرًا حتى رَزَقنيَ اللهُ رِزقًا ما هو بصدقةٍ تُصدِّق بها عليَّ، ولا ميراثٍ ورثتُه، فقضاهُ اللهُ عني، وقسمتُ في أهلي قَسْمًا حسنًا، وحَلَّيتُ ابنةَ عبد الرحمن بثلاثِ أواقِ وَرِقٍ وفَضَلَ لنا فَضْلٌ حَسَن (1). قد احتجَّ البخاريُّ بعبد الله بن عمر النُّميري، و
هذا حديثٌ صحيحٌ، غير أنهما لم يحتجّا بالحكم بن عبد الله الأَيْلي (2).
هذا حديثٌ صحيحٌ، غير أنهما لم يحتجّا بالحكم بن عبد الله الأَيْلي (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے وہ دعا سنی ہے جو آپ ﷺ نے مجھے سکھائی تھی؟ انہوں نے دریافت کیا کہ وہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اپنے ساتھیوں کو یہ دعا سکھایا کرتے تھے کہ ”اگر تم میں سے کسی پر سونے کے پہاڑ جتنا بھی قرض ہو اور وہ اللہ سے اس دعا کے ذریعے التجا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے اسے ادا کر دے گا: «اللَّهُمَّ فَارِجَ الْهَمِّ، كَاشِفَ الْغَمِّ، مُجِيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّينَ، رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمَهُمَا، أَنْتَ تَرْحَمُنِي فَارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ» ”اے اللہ! پریشانیوں کو دور کرنے والے، غموں کو چھانٹنے والے، بے قرار لوگوں کی پکار سننے والے، دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والے اور ان دونوں میں نہایت مہربان! تو ہی مجھ پر رحم فرمانے والا ہے، پس مجھ پر ایسی خاص رحمت فرما جو تیرے سوا ہر کسی کی رحمت سے مجھے بے نیاز کر دے۔““ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھ پر کچھ قرض باقی تھا اور میں اسے سخت ناپسند کرتا تھا، پس میں یہ دعا مانگتا رہا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے فائدہ پہنچایا اور میری طرف سے وہ قرض ادا کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا مجھ پر ایک دینار اور تین درہم قرض تھا، وہ جب میرے پاس آتیں تو مجھے ان کا سامنا کرتے ہوئے شرمندگی ہوتی کیونکہ میرے پاس ادائیگی کی سبیل نہ تھی، پھر میں یہ دعا مانگنے لگی تو کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا رزق عطا فرمایا جو نہ تو کوئی صدقہ تھا، نہ ہی وراثت، بلکہ اللہ نے میرا قرض ادا کر دیا اور میں نے اپنے گھر والوں میں بھی اسے عمدگی سے تقسیم کیا اور سیدنا عبدالرحمن کی صاحبزادی کو چاندی کے تین اوقیہ کے زیورات بنوا کر دیے اور ہمارے پاس کافی مال بچ بھی گیا۔
امام بخاری نے عبداللہ بن عمر النمیری سے احتجاج کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے، البتہ شیخین نے حکم بن عبداللہ الایلی سے احتجاج نہیں کیا ہے۔
امام بخاری نے عبداللہ بن عمر النمیری سے احتجاج کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے، البتہ شیخین نے حکم بن عبداللہ الایلی سے احتجاج نہیں کیا ہے۔
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا أبو المُثنّى العَنْبري ومحمد بن أيوب البَجَلي، قالا: حدثنا عبد الرحمن بن المبارك العَيشي، حدثنا فُضيل بن سليمان النُّميري، حدثنا موسى بن عُقبة، حدثنا عبيد الله بن سلْمان الأغَرّ، عن أبيه، عن أبي الدرداء، عن النبي ﷺ، قال: "كلُّ شيءٍ يتكلم به ابنُ آدمَ فإنه مكتوبٌ عليه، فإذا أخطأ خطيئةً فأحبَّ أن يتوبَ إلى اللهِ، فليأتِ رَفِيعةً فَليَمُدَّ يدَيه إلى الله ﷿، ثم يقول: اللهمّ إني أتوبُ إليك منها، لا أرجِعُ إليها أبدًا، فإنه يُغفر له ما لم يَرجِعْ في عمله ذلك" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ابنِ آدم جو کچھ بھی کلام کرتا ہے وہ اس کے خلاف لکھ لیا جاتا ہے، پس جب اس سے کوئی گناہ ہو جائے اور وہ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ کسی بلند مقام پر آئے اور اللہ عزوجل کے حضور اپنے ہاتھ پھیلا کر یہ کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَتُوبُ إِلَيْكَ مِنْهَا، لَا أَرْجِعُ إِلَيْهَا أَبَدًا» ”اے اللہ! میں اس گناہ سے تیری طرف توبہ کرتا ہوں اور اب کبھی اس کی طرف رجوع نہیں کروں گا“، تو اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے جب تک کہ وہ دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب نہ کرے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا علي بن خَشْرم، أخبرنا عيسى بن يونس، عن أبي بكر بن أبي مريم الغَسّاني، عن ضَمْرة بن حبيب، عن زيد بن ثابت: أنَّ رسول الله ﷺ علَّمه وأمَرَه أن يَتعاهدَ أهلَه في كل صباحٍ: "لَبّيكَ اللهمَّ لَبّيكَ وسَعْدَيك، والخيرُ في يدَيك، ومنك وإليك، اللهمّ ما قلتُ مِن قولٍ، أو حلَفتُ من حَلِفٍ، أو نذَرتُ من نَذْرٍ، فمشيئتُك بين يدَي ذلك كلِّه، ما شئتَ كان، وما لم تَشأ لم يكُن (1)، ولا حَولَ ولا قُوةً إلَّا بك، إنك على كل شيءٍ قديرٌ، اللهم ما صليتُ من صلاةٍ فعلى من صلّيتُ، وما لعنتُ من لَعنٍ فعلى من لَعنتُ، أنت وَليِّي في الدنيا والآخرة، تَوفَّني مسلمًا وأَلحِقْني بالصالحين، اللهم إني أَسألُك الرضا بعد القضاءِ، وبَرْدَ العيشِ بعد الموت، ولذةَ النظرِ إلى وجهك، وشوقًا إلى لقائك، في غير ضَرَّاءَ مُضِرّة، ولا فتنةٍ مُضِلّة، وأعوذُ بك أن أَظلِمَ أو أُظلَمَ، أو أَعتديَ أو يُعتدى علَيَّ، أو أكسِبَ خطيئةً أو ذنبًا لا تغفرُه، اللهمَّ فاطرَ السماوات والأرض، عالمَ الغيبِ والشهادة، ذا الجَلالِ والإكرام، فإني أَعهَدُ إليك في هذه الحياة الدنيا وأُشهِدُك، وكفى بك شهيدًا، أني أشهد أن لا إله إلَّا أنتَ وحدَك لا شَريكَ لك، لك المُلك ولك الحَمدُ، وأنت على كلِّ شيءٍ قديرٌ، وأشهدُ أنَّ محمدًا عبدُك ورسولُك، وأشهدُ أنَّ وَعدَكَ حقٌّ، ولقاءَك حقٌّ، والساعةَ آتيةٌ لا رَيبَ فيها، وأنك تبعثُ مَن في القُبور، وأنك إن تَكِلْني إلى نفسي تَكِلْني إلى ضعفٍ وعَورةٍ وذنبٍ وخطيئةٍ، وإني لا أثِقُ إلَّا برحمتِك، فاغفِرْ لِي ذُنوبي كلَّها، إنه لا يَغفرُ الذنوبَ إلَّا أنتَ، وتُب علَيَّ إنك أنت التوّابُ الرحيمُ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں یہ دعا سکھائی اور حکم دیا کہ وہ ہر صبح اپنے گھر والوں کو اس کی یاد دہانی کرائیں: «لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، وَمِنْكَ وَإِلَيْكَ، اللهُمَّ مَا قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ، أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ، فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْ ذَلِكَ كُلِّهِ، مَا شِئْتَ كَانَ، وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ مَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَعَلَى مَنْ صَلَّيْتَ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنٍ فَعَلَى مَنْ لَعَنْتَ، أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَشَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَعتَدِيَ أَوْ يُعْتَدَى عَلَيَّ، أَوْ أَكْسِبَ خَطِيئَةً أَوْ ذَنْبًا لَا تَغْفِرُهُ، اللهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَإِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَأُشْهِدُكَ، وَكَفَى بِكَ شَهِيدًا، أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، لَكَ الْمُلْكُ وَلَكَ الْحَمْدُ، وأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ وَعْدَكَ حَقٌّ، وَلِقَاءَكَ حَقٌّ، وَأَنَّ ﴿السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّكَ تَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ﴾، وَأَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تَكِلْنِي إِلَى ضَعْفٍ وَعَوْرَةٍ وَذَنْبٍ وَخَطِيئَةٍ، وَإِنِّي لَا أثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي كُلَّهَا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ.» ”میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں اور تیری اطاعت کے لیے مستعد ہوں، تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، سب کچھ تجھ ہی سے ہے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے، اے اللہ! میں نے جو بھی بات کہی ہو، یا کوئی بھی قسم کھائی ہو، یا کوئی بھی نذر مانی ہو، تیری مشیئت ان سب سے پہلے ہے، جو تو چاہے وہی ہوتا ہے اور جو تو نہ چاہے وہ نہیں ہو سکتا، اور گناہوں سے بچنے کی ہمت اور نیکی کرنے کی طاقت تیرے بغیر ممکن نہیں، یقیناً تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اے اللہ! میں نے جس پر درود و رحمت بھیجی ہو پس وہ اسی پر ہے جس پر تو نے رحمت بھیجی، اور میں نے جس پر لعنت کی ہو تو وہ اسی پر ہے جس پر تو نے لعنت کی ہو، تو ہی دنیا و آخرت میں میرا کارساز ہے، مجھے اسلام کی حالت میں موت عطا فرما اور صالحین کے ساتھ ملا دے، اے اللہ! میں تجھ سے فیصلے کے بعد اس پر راضی رہنے، موت کے بعد کی پُرسکون زندگی، تیرے دیدار کی لذت اور تجھ سے ملنے کے شوق کا سوال کرتا ہوں، ایسی حالت میں کہ نہ کوئی تکلیف دہ نقصان پہنچا ہو اور نہ ہی کوئی گمراہ کن فتنہ ہو، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا میں زیادتی کروں یا مجھ پر زیادتی کی جائے، یا میں ایسی خطا یا گناہ کروں جسے تو معاف نہ فرمائے، اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غیب اور ظاہر کے جاننے والے، جاہ و جلال اور عزت و اکرام والے! میں اس دنیاوی زندگی میں تجھ سے عہد کرتا ہوں اور تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیری گواہی کافی ہے، کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو تنہا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، تیری ہی بادشاہی ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، اور تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) تیرے بندے اور رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ سچ ہے، تیری ملاقات برحق ہے، اور ﴿السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّكَ تَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ﴾ ”قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور تو ان کو دوبارہ اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں“ [سورة الحج: 7]، اور اگر تو نے مجھے میرے نفس کے حوالے کر دیا تو تو نے مجھے کمزوری، عیب، گناہ اور خطا کے حوالے کر دیا، اور میں صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتا ہوں، پس میرے تمام گناہ معاف فرما دے، بلاشبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں، اور میری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔