حدیث نمبر: 1922
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا أبو الأحوص، حدثنا أبو إسحاق، عن كُميل بن زياد، عن أبي هريرة، قال: كنا نمشي مع رسولِ الله ﷺ في بعض حِيطان المدينةِ، فقال: "يا أبا هريرة" فقلتُ: لبيكَ يا رسولَ الله، فقال: "إنَّ المُكثِرين هم الأَقَلُّون إِلَّا مَن قال بمالِه هكذا وهكذا - وأومأ بيدِه عن يمينِه وعن شمالِه - وقليلٌ ما هُم"، ثم قال: "يا أبا هِرّ، ألا أدلُّك على كَنْزٍ من كُنوز الجنةِ؟ " قلت: بلى يا رسول الله، قال: "تقول: لا حَولَ ولا قُوَّة إلَّا بالله، ولا مَلجأَ ولا مَنْجا من الله إلَّا إليه"، ثم قال: "يا أبا هِرّ، تدري ما حقُّ الله على العِباد، وما حقُّ العِبادِ على الله؟ " قال: قلت: اللهُ ورسولُه أعلم، قال: "فإنَّ حقَّ الله على العِباد أن يَعبُدوه ولا يُشرِكُوا به شيئًا، وحقَّ العِباد على الله أن لا يُعذِّبَ مَن لا يُشركُ به" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مدینہ منورہ کے ایک باغ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”زیادہ مال والے ہی (قیامت کے دن اجر میں) کم ہوں گے سوائے اس شخص کے جس نے اپنے مال کو اس طرح اور اس طرح (یعنی ہر طرف صدقہ و خیرات میں) خرچ کیا - اور آپ ﷺ نے اپنے دائیں اور بائیں جانب اشارہ فرمایا - اور ایسے لوگ بہت کم ہیں“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم یہ کہا کرو: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، وَلَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ» ”گناہوں سے بچنے کی ہمت اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں، اور اللہ سے بچنے کی کوئی پناہ گاہ اور جائے نجات نہیں مگر اسی کی طرف“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو۔““
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس انداز میں روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1922
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي، وأبو الأحوص: هو سلّام بن سُليم، وأبو المُثنَّى: هو معاذ بن المثنَّى، وأخرجه مختصرًا بذكر المكثرين أحمد 13/ (8085) و 16/ (10795) من طريقين عن أبي إسحاق السبيعي، به.» [ترقيم الرساله 1922] [ترقيم الشركة 1907]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي، وأبو الأحوص: هو سلّام بن سُليم، وأبو المُثنَّى: هو معاذ بن المثنَّى.

وأخرجه مختصرًا بذكر المكثرين أحمد 13/ (8085) و 16/ (10795) من طريقين عن أبي إسحاق السبيعي، به.

حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابواسحاق السبیعی، ابوالاحوص اور ابومثنیٰ سب ثقہ راوی ہیں۔ امام احمد نے اسے مختصر طور پر بھی روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا بذكر كنز الجنة النسائي (10118) من طريق إسرائيل بن يونس، عن جده أبي إسحاق، به.
حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے "جنت کے خزانے" کے ذکر کے ساتھ اسرائیل بن یونس کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه دون ذكر حق الله وحق العباد أحمد 16/ (10736) و (10918) من طريق عبد الرحمن بن عابس، عن كُميل بن زياد، به.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے عبدالرحمن بن عابس عن کمیل بن زیاد کے طریق سے اللہ اور بندوں کے حقوق کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا أيضًا ابن ماجه (4131) من طريق محمد بن عجلان، عن أبيه، عن أبي هريرة، رفعه: "الأكثرون هم الأسفلون، إلّا من قال هكذا وهكذا وهكذا" ثلاثًا. وإسناده قويٌّ.
حکم / درجۂ حدیث: ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً "الاکثرون ہم الاسفلون..." کے الفاظ سے روایت کیا ہے، اور اس کی سند قوی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1922 سے ماخوذ ہے۔