کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو بندہ “بسم اللہ الذی لا یضر” کہتا ہے اس کے بارے میں فضیلت۔
أخبرنا أبو بكر بن أبي نصر الدارَبردي بمَرْو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن أبان بن عثمان، قال: سمعت عثمان بن عفّان يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ما مِن عبدٍ يقولُ في صباحِ كلِّ يومٍ ومساءِ كلِّ ليلةٍ: باسم اللهِ الذي لا يَضُرُّ معَ اسمِه شيءٌ في الأرضِ ولا في السماءِ، وهو السميعُ العليمُ، ثلاثَ مراتٍ، فيَضُرَّه شيءٌ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بندہ ہر صبح اور ہر رات یہ کہے: «بِاسْمِ اللهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کی برکت سے زمین اور آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے“، تین مرتبہ کہے تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عيسى بن يونس، عن الوليد بن ثَعلَبة، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن قال: اللهمّ أنتَ ربِّي لا إله إِلَّا أَنتَ، خَلَقْتَني وأنا عبدُك، وعلى عَهْدِك ووَعدِك ما استطعتُ، أعوذُ بك من كلِّ ما صنعتُ، وأبُوءُ بذَنْبي، فاغفِرْ لي ذُنوبي، إنه لا يغفرُ الذنوبَ إلَّا أنت، فمات من يومِه وليلتِه، دَخَل الجنةَ" (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے یہ کہا: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَعَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ مَا صَنَعْتُ، وَأَبُوءُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں، اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور تیرے وعدے پر قائم ہوں، میں اپنے کیے ہوئے کاموں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں اپنے گناہوں کا تیرے حضور اعتراف کرتا ہوں، پس میرے گناہوں کو بخش دے، بلاشبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں ہے“، پھر وہ اسی دن یا اسی رات انتقال کر جائے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عوف بن سُفيان الطائي، حدثنا أبو المُغيرة عبد القُدّوس بن الحجّاج، حدثنا أبو بكر بن أبي مريم، حدثنا الأحوص بن حَكِيم بن عُمير وحبيب بن عُبيد، عن أبي الدرداء، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا يَدَعُ رجلٌ منكم أن يعمل ألفَ حسنةٍ حتى يُصبحَ، يقولُ: سبحانَ اللهِ وبحمدِه، مئةَ مرّة، فإنها ألفُ حسنةٍ، فإنه لم يعملْ إن شاءَ اللهُ مثلَ ذلك في يومِه من الذنوب، ويكونُ ما عملَ من خَيرٍ سِوى ذلك وافِرًا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص بھی اس بات سے عاجز نہ رہے کہ وہ صبح ہونے تک ایک ہزار نیکیاں کما لے، وہ سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ» کہے تو یہ ایک ہزار نیکیاں ہیں، کیونکہ ان شاء اللہ اس دن وہ اتنے گناہ نہیں کرے گا جو ان نیکیوں کے اجر کو ختم کر دیں اور اس کے علاوہ اس کے دیگر نیک اعمال الگ سے وافر اجر کا باعث ہوں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔