المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
دُعَاءُ قَضَاءِ الدَّيْنِ باب: قرض کی ادائیگی کی دعا۔
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا علي بن خَشْرم، أخبرنا عيسى بن يونس، عن أبي بكر بن أبي مريم الغَسّاني، عن ضَمْرة بن حبيب، عن زيد بن ثابت: أنَّ رسول الله ﷺ علَّمه وأمَرَه أن يَتعاهدَ أهلَه في كل صباحٍ: "لَبّيكَ اللهمَّ لَبّيكَ وسَعْدَيك، والخيرُ في يدَيك، ومنك وإليك، اللهمّ ما قلتُ مِن قولٍ، أو حلَفتُ من حَلِفٍ، أو نذَرتُ من نَذْرٍ، فمشيئتُك بين يدَي ذلك كلِّه، ما شئتَ كان، وما لم تَشأ لم يكُن (1)، ولا حَولَ ولا قُوةً إلَّا بك، إنك على كل شيءٍ قديرٌ، اللهم ما صليتُ من صلاةٍ فعلى من صلّيتُ، وما لعنتُ من لَعنٍ فعلى من لَعنتُ، أنت وَليِّي في الدنيا والآخرة، تَوفَّني مسلمًا وأَلحِقْني بالصالحين، اللهم إني أَسألُك الرضا بعد القضاءِ، وبَرْدَ العيشِ بعد الموت، ولذةَ النظرِ إلى وجهك، وشوقًا إلى لقائك، في غير ضَرَّاءَ مُضِرّة، ولا فتنةٍ مُضِلّة، وأعوذُ بك أن أَظلِمَ أو أُظلَمَ، أو أَعتديَ أو يُعتدى علَيَّ، أو أكسِبَ خطيئةً أو ذنبًا لا تغفرُه، اللهمَّ فاطرَ السماوات والأرض، عالمَ الغيبِ والشهادة، ذا الجَلالِ والإكرام، فإني أَعهَدُ إليك في هذه الحياة الدنيا وأُشهِدُك، وكفى بك شهيدًا، أني أشهد أن لا إله إلَّا أنتَ وحدَك لا شَريكَ لك، لك المُلك ولك الحَمدُ، وأنت على كلِّ شيءٍ قديرٌ، وأشهدُ أنَّ محمدًا عبدُك ورسولُك، وأشهدُ أنَّ وَعدَكَ حقٌّ، ولقاءَك حقٌّ، والساعةَ آتيةٌ لا رَيبَ فيها، وأنك تبعثُ مَن في القُبور، وأنك إن تَكِلْني إلى نفسي تَكِلْني إلى ضعفٍ وعَورةٍ وذنبٍ وخطيئةٍ، وإني لا أثِقُ إلَّا برحمتِك، فاغفِرْ لِي ذُنوبي كلَّها، إنه لا يَغفرُ الذنوبَ إلَّا أنتَ، وتُب علَيَّ إنك أنت التوّابُ الرحيمُ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں یہ دعا سکھائی اور حکم دیا کہ وہ ہر صبح اپنے گھر والوں کو اس کی یاد دہانی کرائیں: «لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، وَمِنْكَ وَإِلَيْكَ، اللهُمَّ مَا قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ، أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ، فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْ ذَلِكَ كُلِّهِ، مَا شِئْتَ كَانَ، وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ مَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَعَلَى مَنْ صَلَّيْتَ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنٍ فَعَلَى مَنْ لَعَنْتَ، أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَشَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَعتَدِيَ أَوْ يُعْتَدَى عَلَيَّ، أَوْ أَكْسِبَ خَطِيئَةً أَوْ ذَنْبًا لَا تَغْفِرُهُ، اللهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَإِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَأُشْهِدُكَ، وَكَفَى بِكَ شَهِيدًا، أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، لَكَ الْمُلْكُ وَلَكَ الْحَمْدُ، وأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ وَعْدَكَ حَقٌّ، وَلِقَاءَكَ حَقٌّ، وَأَنَّ ﴿السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّكَ تَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ﴾، وَأَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تَكِلْنِي إِلَى ضَعْفٍ وَعَوْرَةٍ وَذَنْبٍ وَخَطِيئَةٍ، وَإِنِّي لَا أثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي كُلَّهَا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ.» ”میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں اور تیری اطاعت کے لیے مستعد ہوں، تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، سب کچھ تجھ ہی سے ہے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے، اے اللہ! میں نے جو بھی بات کہی ہو، یا کوئی بھی قسم کھائی ہو، یا کوئی بھی نذر مانی ہو، تیری مشیئت ان سب سے پہلے ہے، جو تو چاہے وہی ہوتا ہے اور جو تو نہ چاہے وہ نہیں ہو سکتا، اور گناہوں سے بچنے کی ہمت اور نیکی کرنے کی طاقت تیرے بغیر ممکن نہیں، یقیناً تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اے اللہ! میں نے جس پر درود و رحمت بھیجی ہو پس وہ اسی پر ہے جس پر تو نے رحمت بھیجی، اور میں نے جس پر لعنت کی ہو تو وہ اسی پر ہے جس پر تو نے لعنت کی ہو، تو ہی دنیا و آخرت میں میرا کارساز ہے، مجھے اسلام کی حالت میں موت عطا فرما اور صالحین کے ساتھ ملا دے، اے اللہ! میں تجھ سے فیصلے کے بعد اس پر راضی رہنے، موت کے بعد کی پُرسکون زندگی، تیرے دیدار کی لذت اور تجھ سے ملنے کے شوق کا سوال کرتا ہوں، ایسی حالت میں کہ نہ کوئی تکلیف دہ نقصان پہنچا ہو اور نہ ہی کوئی گمراہ کن فتنہ ہو، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا میں زیادتی کروں یا مجھ پر زیادتی کی جائے، یا میں ایسی خطا یا گناہ کروں جسے تو معاف نہ فرمائے، اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غیب اور ظاہر کے جاننے والے، جاہ و جلال اور عزت و اکرام والے! میں اس دنیاوی زندگی میں تجھ سے عہد کرتا ہوں اور تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیری گواہی کافی ہے، کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو تنہا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، تیری ہی بادشاہی ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، اور تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) تیرے بندے اور رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ سچ ہے، تیری ملاقات برحق ہے، اور ﴿السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّكَ تَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ﴾ ”قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور تو ان کو دوبارہ اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں“ [سورة الحج: 7]، اور اگر تو نے مجھے میرے نفس کے حوالے کر دیا تو تو نے مجھے کمزوری، عیب، گناہ اور خطا کے حوالے کر دیا، اور میں صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتا ہوں، پس میرے تمام گناہ معاف فرما دے، بلاشبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں، اور میری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
حکم / درجۂ حدیث: سند ضعیف اور منقطع ہے؛ ضمرہ بن حبیب کا حضرت زید بن ثابت سے سماع نہیں ہے۔ ابوبکر بن ابی مریم کی متابعت کے باوجود انقطاع کی علت برقرار ہے۔
وأخرجه أحمد 35/ (21666) عن أبي المغيرة عبد القدوس بن الحجاج الخَولاني، عن أبي بكر بن أبي مريم، عن ضمرة، عن أبي الدرداء، عن زيد بن ثابت.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے ابومغیرہ عن ابوبکر بن ابی مریم کے طریق سے روایت کیا ہے، جس میں ضمرہ اور زید کے درمیان ابودرداء کا واسطہ مذکور ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (4932)، وفي "الدعاء" (320)، وفي "مسند الشاميين" (2013)، وابن بطة في "الإبانة" 7/ 39 من طريق عبد الله بن صالح كاتب الليث، عن معاوية بن صالح، عن ضمرة بن حبيب، عن زيد بن ثابت.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی اور ابن بطہ نے کاتب اللیث عبداللہ بن صالح کے طریق سے روایت کیا ہے۔