حدَّثَناه الأستاذ الإمام أبو الوليد ﵀ حدثنا محمد بن المنذر الهَرَوي، حدثنا أبو يحيى محمد بن سعيد بن غالب، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا إسماعيل بن مُسلِم، عن محمد بن سِيرين، عن زيد بن ثابتٍ قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ الحجَّ والعمرةَ فريضتانِ لا يَضرُّك بأيِّهما بدأتَ" (1). والصحيح عن زيد بن ثابت قولَه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک حج اور عمرہ دو فرائض ہیں، تم ان میں سے جس سے بھی پہلے آغاز کر لو اس میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں۔“ اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ کلام سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا اپنا قول (موقوف) ہے۔
حدَّثَناه أبو الوليد، حدثنا محمد بن نُعيم، حدثنا يحيى بن أيوب المَقابِري، حدثنا عبّاد بن عبّاد المُهلَّبي، حدثنا هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرين: أنَّ زيد بن ثابتٍ سُئِل عن العُمرة قبل الحَجِّ، قال: صلاتانِ لا يَضرُّك بأيِّهما بدأتَ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے حج سے پہلے عمرہ کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ دو نمازوں کی طرح ہیں، تمہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم جس سے بھی پہلے ابتدا کرو۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، أخبرنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف، وعبد المجيد بن عبد العزيز، عن ابن جُريج قال: أخبَرَني نافع مولى ابن عمر: أَنَّ عبد الله بن عمر كان يقول: ليس من خَلْقِ اللهِ أحدٌ إِلَّا عليه حَجَّةٌ وعُمرةٌ واجبتانِ مَن استطاع إلى ذلك سبيلًا، فمَن زادَ بعدها شيئًا فهو خيرٌ وتطوُّع. قال ابن جريج (1): وأُخبِرتُ عن ابن عباسٍ أنه قال: العُمرةُ واجبةٌ كوُجوب الحجِّ مَن استطاع إليه سبيلًا (2). هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: اللہ کی مخلوق میں سے ہر اس شخص پر جس کے پاس استطاعت ہو، ایک حج اور ایک عمرہ واجب ہے، پھر اس کے بعد جو بھی عمل کرے وہ خیر اور نفل ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت پہنچی کہ انہوں نے فرمایا: عمرہ بھی اسی طرح واجب ہے جیسے حج واجب ہے بشرطیکہ استطاعت ہو۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔