أخبرنا أحمد بن سَهْل بن حَمْدَوَيهِ الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا هُشيم، عن ابن عَوْن، عن القاسم بن محمد، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ قال لها في عُمْرتِها: "إِنَّ لكِ من الأجر على قَدْرِ نَصَبِكِ ونَفَقَتِكِ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وله شاهد صحيح:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وله شاهد صحيح:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے ان کے عمرہ کے بارے میں فرمایا: ”بلاشبہ تمہارے لیے تمہاری مشقت اور تمہارے خرچ کے مطابق اجر ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! اور اس کا ایک صحیح شاہد بھی موجود ہے:
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! اور اس کا ایک صحیح شاہد بھی موجود ہے:
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن عليٍّ الحافظ، أخبرنا علي بن سَلْم (2) الأصبهاني، حدثنا أبو الفضل جعفر بن مُكْرَم الرازي، حدثنا أبو عليٍّ الحسن بن إدريس الحُلْواني (3)، حدثنا مِهْران بن أبي عمر، حدثنا سفيان، عن منصور، عن إبراهيم، عن الأسوَد، عن عائشة: أنَّ النبيَّ ﷺ قال لها في عمرتها: "إنَّما أجرُكِ في عُمرَتِكِ على قَدْرِ نَفَقَتِكِ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے ان کے عمرہ کے متعلق فرمایا: ”تمہارے عمرہ کا اجر تمہارے خرچ کے مطابق ہے۔“
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عبد الرحمن بن حرملة، قال: سمعتُ سعيد بن المسيّب قال: حجَّ عليٌّ وعثمانُ، فلمّا كانا ببعض الطريق نهى عثمانُ عن التمتُّع بالعمرة إلى الحج، فقيل لعليٍّ: إنه قد نَهَى عن التمتُّع، فقال: إذا رأيتُمُوه قد ارتَحَلَ فارتَحِلوا. فلبَّى عليٌّ وأصحابه بالعُمرة، ولم يَنهَهم عثمان، فقال علي: ألم أُخبَرْ أنك تَنهى عن التمتُّع بالعمرة؟ قال: بلى، فقال عليٌّ: ألم تَسمَعْ رسولَ الله ﷺ تمتَّعَ؟ قال: بلى (2)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دورانِ سفر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حجِ تمتع (عمرہ کو حج کے ساتھ ملانے) سے منع فرمایا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ انہوں نے تمتع سے منع کیا ہے، تو علی رضی اللہ عنہ نے (اپنے ساتھیوں سے) فرمایا: جب تم انہیں دیکھو کہ وہ کوچ کر گئے ہیں تو تم بھی کوچ کر جاؤ، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا اور عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں نہیں روکا، پھر علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ آپ تمتع سے منع کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمتع فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔