کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی ﷺ نے کتنے حج کیے۔
حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا هاشم ابن يونس العصّار (1)، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا الليث، حدثني عبد الرحمن بن خالد بن مُسافِر، عن ابن شهاب، عن أبي سِنان الدُّؤلي، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ قال: "يا قومِ، كُتِبَ عليكم الحَجُّ"، فقال الأقرع بن حابس: أَكُلَّ عامٍ يا رسولَ الله؟ فصَمَتَ رسولُ الله ﷺ، ثم قال: "لا، بل حَجَّةٌ واحدةٌ، ثم مَن حَجَّ بعدَ ذلك فهو تطوُّعٌ، ولو قلتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ عليكم، ثم إذًا لا تَسمَعونَ ولا تُطيعون" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے“، تو سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے، پھر فرمایا: ”نہیں بلکہ صرف ایک مرتبہ فرض ہے، اس کے بعد جو حج کرے گا وہ نفل ہوگا، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو وہ تم پر واجب ہو جاتا اور پھر تم اسے نہ سن پاتے اور نہ ہی اس کی اطاعت کر پاتے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1746
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، عبد الله بن صالح كاتب الليث» [ترقيم الرساله 1746] [ترقيم الشركة 1734]
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا إسماعيل بن مُسلِم، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس قال: الحجُّ والعُمرةُ فريضَتانِ على الناس كلِّهم إلَّا أهلَ مكةَ، فإنَّ عُمرتَهم طوافُهُم، فليَخرُجوا إلى التَّنعيم ثم لْيدخُلوها، فوالله ما دَخَلَها رسولُ الله ﷺ إلَّا حاجًّا أو مُعتمِرًا (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد أُسنِد عن محمد بن كثير بإسنادٍ آخر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حج اور عمرہ تمام لوگوں پر دو فریضے ہیں سوائے اہل مکہ کے، کیونکہ ان کا عمرہ ان کا طواف ہی ہے، (اگر وہ الگ سے عمرہ کرنا چاہیں) تو انہیں چاہیے کہ تنعیم کی طرف نکلیں اور پھر وہاں سے (احرام باندھ کر) مکہ میں داخل ہوں، اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ مکہ میں صرف حج یا عمرہ کی حالت ہی میں داخل ہوئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1747
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بمرّة من أجل إسماعيل بن مسلم: وهو المكي أبو إسحاق البصري.» [ترقيم الرساله 1747] [ترقيم الشركة 1735]