المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ فَرِيضَتَانِ باب: حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں۔
حدیث نمبر: 1748
حدَّثَناه الأستاذ الإمام أبو الوليد ﵀ حدثنا محمد بن المنذر الهَرَوي، حدثنا أبو يحيى محمد بن سعيد بن غالب، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا إسماعيل بن مُسلِم، عن محمد بن سِيرين، عن زيد بن ثابتٍ قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ الحجَّ والعمرةَ فريضتانِ لا يَضرُّك بأيِّهما بدأتَ" (1). والصحيح عن زيد بن ثابت قولَه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک حج اور عمرہ دو فرائض ہیں، تم ان میں سے جس سے بھی پہلے آغاز کر لو اس میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں۔“ اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ کلام سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا اپنا قول (موقوف) ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف كسابقه، ومحمد بن المنذر الهروي، قال أبو حاتم: مجهول، وذكره ابن
حبان في "الثقات" وقال: يخطئ أحيانًا. قلنا: وقد توبع. قال البيهقي: الصحيح موقوف.
درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ بھی ضعیف ہے۔ محمد بن المنذر الہروی کو ابو حاتم نے "مجہول" کہا۔
اہم نکتہ / خلاصہ: امام بیہقی فرماتے ہیں کہ اس کا "موقوف" (صحابی کا قول ہونا) ہی صحیح ہے۔
وأخرجه ابن الغطريف في "جزئه" (20)، والدارقطني في "سننه" (2718) من طريقين عن محمد بن سعيد بن غالب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن الغطریف اور دارقطنی نے محمد بن سعید کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حبان في "الثقات" وقال: يخطئ أحيانًا. قلنا: وقد توبع. قال البيهقي: الصحيح موقوف.
درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ بھی ضعیف ہے۔ محمد بن المنذر الہروی کو ابو حاتم نے "مجہول" کہا۔
اہم نکتہ / خلاصہ: امام بیہقی فرماتے ہیں کہ اس کا "موقوف" (صحابی کا قول ہونا) ہی صحیح ہے۔
وأخرجه ابن الغطريف في "جزئه" (20)، والدارقطني في "سننه" (2718) من طريقين عن محمد بن سعيد بن غالب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن الغطریف اور دارقطنی نے محمد بن سعید کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1748 سے ماخوذ ہے۔