کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: قربانی اور اونٹ کی قربانی میں ناپسندیدہ امور کا بیان۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا شعبة. وأخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا يزيد بن هارون وزيد بن الحُبَاب، عن شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، وحدثنا يحيى بن سعيد، وحدثنا أبو داود؛ قالوا: حدثنا شعبة - وهذا لفظُ حديث أبي العباس - قال: سمعتُ سليمان بنَ عبد الرحمن يقول: سمعتُ عُبيدَ بن فَيْروزَ يقول: قلت للبراء: حدِّثْني عمَّا كَرِهَ أو نَهَى عنه رسولُ الله ﷺ من الأضاحيِّ، قال: فقال رسولُ الله ﷺ هكذا بيدِه - ويدي أقصرُ من يدِ رسول الله ﷺ: "أربعٌ لا يُجْزِئنَ في الأضاحيِّ: العَوْراءُ البيِّنُ عَوَرُها، والمريضةُ البيِّنُ مَرَضُها، والعَرْجاءُ البيِّنُ عَرَجُها، والكَسِيرُ التي لا تُنْقي". قال: فإنِّي أكرَهُ أن يكون نَقْصٌ في الأُذُن والقَرْن، قال: فما كَرِهتَ فَدَعْهُ ولا تُحرِّمه على غيرك (1).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه لعلّة (1) روايات سليمان بن عبد الرحمن، وقد أظهر عليُّ بن المَديني فضائلَه وإتقانَه. ولهذا الحديث شواهد متفرقة بأسانيد صحيحة ولم يخرجوها، فمنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا— اور میرا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک سے چھوٹا ہے: ”چار قسم کے جانور قربانی کے لیے کفایت نہیں کرتے: وہ کانا جس کا کانا پن واضح ہو، وہ بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو، وہ لنگڑا جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو، اور وہ کمزور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو۔“ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے عرض کیا: میں کان اور سینگ کے نقص کو بھی ناپسند کرتا ہوں، تو انہوں نے فرمایا: جو تمہیں ناپسند ہو اسے چھوڑ دو مگر اسے دوسروں پر حرام نہ کرو۔
یہ حدیث صحیح ہے، اور شیخین نے اسے سلیمان بن عبدالرحمن کی روایات میں علت کی وجہ سے روایت نہیں کیا، جبکہ علی بن مدینی نے ان کے فضائل اور اتقان کو واضح کیا ہے، اور اس حدیث کے مختلف صحیح شواہد موجود ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1736
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،محمد بن جعفر: هو الملقب بغُندَر، ويحيى بن سعيد: هو القطان، وأبو داود: هو سليمان بن داود الطيالسي، والثلاثة الراوي عنهم هنا هو أحمد بن حنبل.» [ترقيم الرساله 1736] [ترقيم الشركة 1724]
ما حدَّثَناه عليُّ بن حَمْشاذَ العدل وعبدُ الله بن الحسين القاضي، قالا: حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا رَوْحُ بن عُبادة. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عفان. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي؛ قالوا: حدثنا شعبة، عن قتادةَ قال: سمعتُ جُرَيَّ بن كُلَيب النَّهْدي يحدِّث عن عليٍّ: أنَّ نبيَّ الله ﷺ نَهَى أن يُضحَّى بأعْضَبِ القُرونِ والأُذُن. قال قتادة: فذكرتُ ذلك لسعيد بن المسيّب فقال: العَضَبُ: النِّصفُ فما فوقَ ذلك (2). ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ٹوٹے ہوئے سینگ اور کٹے ہوئے کان والے جانور کی قربانی سے منع فرمایا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا تذکرہ سعید بن مسیب سے کیا تو انہوں نے کہا کہ «عضب» (ٹوٹا یا کٹا ہوا) سے مراد آدھا یا آدھے سے زیادہ حصہ ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1737
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف للتفرُّد والمخالفة
تخریج حدیث «إسناده ضعيف للتفرُّد والمخالفة، فقد تفرَّد به جري بن كليب، وبهذا الاسم اثنان نسب الأول كما هنا نهديًّا، والثاني سدوسيًّا، وقد اضطرب فيهما النُّقّاد، فجعلهما واحدًا البخاريُّ في "التاريخ الكبير" 2/ 244، وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 2/ 536، وابن حبان في "الثقات" 4/ 117، وفرَّق بينهما أبو داود ...» [ترقيم الرساله 1737] [ترقيم الشركة 1725]
ما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبيد الله بن أبي داود المُنادي، حدثنا وهب بن جَرير وأبو النَّضر، قالا: حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، أنَّ سَلَمةَ بن كُهَيل أخبره، قال: سمعتُ حُجَيَّةَ بنَ عَديٍّ الكِنْدِي يقول: سمعتُ عليًّا يقول: أَمَرَنا رسولُ الله ﷺ أَن نَستَشرِفَ العينَ والأُذُنَ (1). ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم (قربانی کے جانور کی) آنکھ اور کان کو اچھی طرح دیکھ لیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1738
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل حجية بن عدي الكندي. أبو النضر: هو هاشم بن القاسم.» [ترقيم الرساله 1738] [ترقيم الشركة 1726]
ما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبيد الله المُنادِي، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، عن أبي إسحاق الهَمْداني، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن حُجَيّةَ بن عَدِيٍّ: أنَّ رجلًا سأل عليًّا عن البقرة، فقال: عن سبعةٍ. قال: القَرْن؟ (1) قال: العَرَج؟ قال: إذا بَلَغَت المناسكَ، قال: وكان رسولُ الله ﷺ أَمَرَنا أن نَستشرِفَ العينَ والأُذُن (2). ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے گائے کی قربانی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ سات افراد کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس نے پوچھا: اگر اس کا سینگ (ٹوٹا ہوا ہو) یا وہ لنگڑی ہو؟ انہوں نے فرمایا: جب وہ ذبح کے مقام تک پہنچ جائے (تو قربانی درست ہے)، اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (جانور کی) آنکھ اور کان کو اچھی طرح دیکھ لیا کریں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1739
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،كسابقه. جرير والد وهب: هو ابن حازم، وأبو إسحاق الهمداني: هو عمرو بن عبد الله السبيعي.» [ترقيم الرساله 1739] [ترقيم الشركة 1727]
ما حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عيسى التِّنِّيسي، حدثنا عمرو بن أبي سَلَمة، حدثنا صَدَقة بن عبد الله الدمشقي، عن ثَوْر بن يزيد، عن أبي حُمَيد الرُّعَينيِّ قال: كنّا جُلوسًا إلى عُتبةَ بن عبدٍ السُّلَمي، فأقبل يزيدُ ذو مِصْرٍ المُقْرائي فقال لعُتبة: يا أبا الوليد، إنّا خرجنا آنفًا في التِمَاسِ جَدْيِ نُسُكٍ، فلم نَكَدْ نجدُ شيئًا يُنْقِى غيرَ أنِّي وجدتُ ثَرْماءَ سمينةً، فقال عتبة: فلوما جئتَنا بها، فقال: اللهم غُفْرًا، أتجوزُ عنكَ ولا تجوز عنِّي؟ قال: نعم، قال: إنَّك تشُكُّ ولا أَشكُّ، قال: ثم أخرج عتبةُ يدَه فقال: إنَّما نَهَى رسولُ الله ﷺ عن خمسٍ: عن المُؤصَلَة والمُصْفَرَة والبَخْقاء والكَسْراء والمُشَيِّعة. قال: والمُؤصَلَةُ: المستأصَلَة قَرْنُها، والمُصْفَرَة: المستأصَلَة أُذُنها (1)، والبَخْقاء: البيِّنُ عَوَرُها (2)، والمُشيِّعة (3): المهزولة أو المريضة التي لا تَتْبعُ الغنمَ (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عتبہ بن عبد السلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پانچ قسم کے جانوروں کی قربانی سے منع فرمایا ہے: ”مؤصلہ، مصفرہ، بخقاء، کسراء اور مشیعہ۔“ انہوں نے وضاحت کی کہ «مؤصله» سے مراد وہ جانور ہے جس کا سینگ جڑ سے اکھڑا ہوا ہو، «مصفره» وہ جس کا کان جڑ سے کٹا ہوا ہو، «بخقاء» وہ جس کا کانا پن واضح ہو، «كسراء» وہ جس کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہو، اور «مشيعه» سے مراد وہ نہایت کمزور یا بیمار جانور ہے جو ریوڑ کے ساتھ نہ چل سکے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1740
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، صدقة بن عبد الله ضعيف، وأبو حميد الرعيني ويزيد ذو مصر مجهولان.» [ترقيم الرساله 1740] [ترقيم الشركة 1728]
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حدثنا أحمد بن صالح، حدثني ابن أبي فُدَيك، حدثني الضَّحَّاك بن عثمان، عن هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عائشةَ قالت: أرسَلَ رسولُ الله ﷺ بأُمِّ سَلَمة ليلةَ النَّحْر، فرَمَتِ الجَمْرة قبل الفجر، ثم مَضَتْ فأفاضت، وكان ذلك يومَ الثاني الذي يكونُ عندها رسولُ الله ﷺ (5). صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو یومِ نحر کی رات (مزدلفہ سے منیٰ کی طرف) بھیج دیا تھا، چنانچہ انہوں نے فجر سے پہلے ہی جمرہ کی رمی کر لی اور پھر وہیں سے (کعبہ کی طرف) چلی گئیں اور طوافِ افاضہ کر لیا، اور وہ دوسرا دن تھا جس میں رسول اللہ ﷺ کی باری ان کے پاس ہوتی تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1741
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل الضحاك بن عثمان» [ترقيم الرساله 1741] [ترقيم الشركة 1729]