کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: عرفہ کے دن سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ زیادہ بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہو۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مُنقِذ الخَوْلاني، حدثنا ابن وَهْب، عن مَخْرَمة بن بُكَير، عن أبيه قال: سمعتُ يونسَ بن يوسف يحدِّث عن سعيد بن المسيّب، عن عائشةَ زوجِ النبيّ ﷺ، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "ما مِن يومٍ أكثرَ مِن أن يُعتِقَ اللهُ فيه عبدًا من النار من يومِ عَرَفةَ، وإنَّه ليَدْنو ثم يُباهي الملائكةَ فيقول: ما أرادَ هؤلاءِ؟ " (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زیادہ کسی اور دن اتنی کثرت سے بندوں کو آگ سے آزاد نہیں فرماتا، اور وہ (اپنی شان کے مطابق) قریب ہوتا ہے، پھر فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا إسحاق بن محمد بن خالد الهاشمي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزةَ الغِفَاري، حدثنا خالد بن مَخْلَد القَطَواني. وأخبرني أبو سعيد عبد الرحمن بن أحمد المؤذِّن، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا علي بن مسلم، حدثنا خالد بن مَخْلَد، حدثنا علي بن مُسهِر (1)، عن مَيسَرَةَ بن حبيب، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير قال: كنا مع ابن عباسٍ بعَرفةَ فقال لي: يا سعيد، ما لي لا أسمعُ الناسَ يُلَبُّون؟ فقلت: يخافون من معاويةَ، قال: فخرج ابنُ عباس من فُسطاطِه فقال: لبَّيكَ اللهمَّ لبَّيك، فإنهم قد تَرَكوا السُّنةَ من بُغض عليٍّ ﵁ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ عرفہ میں تھے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: اے سعید! کیا بات ہے کہ میں لوگوں کو تلبیہ پکارتے ہوئے نہیں سن رہا؟ میں نے عرض کیا: وہ معاویہ رضی اللہ عنہ سے ڈرتے ہیں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے خیمے سے باہر نکلے اور بلند آواز سے پکارا: «لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں“، پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض کی بنا پر سنت کو چھوڑ دیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو سعيد بن أبي بكر بن أبي عثمان، حدثنا الهَيثم بن خَلَف الدُّوري، حدثنا جميل بن الحسن الجَهْضَمي، حدثنا محبوب بن الحسن، حدثنا داود بن أبي هند، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسولَ الله ﷺ وَقَفَ بعرفاتٍ، فلمّا قال: "لبَّيك اللهمَّ لبَّيك" قال: "إنّما الخيرُ خيرُ الآخرة" (1). قد احتجَّ البخاريُّ بعِكرمة، واحتجَّ مسلم بداود، وهذا الحديث صحيح لم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں وقوف فرمایا، پھر جب آپ ﷺ نے «لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ» کہا تو ساتھ ہی فرمایا: ”بلاشبہ اصل بھلائی تو آخرت ہی کی بھلائی ہے۔“
امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے داؤد سے احتجاج کیا ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے جسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔
امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے داؤد سے احتجاج کیا ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے جسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔