المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
الْوُقُوفُ بِالْمُزْدَلِفَةِ باب: مزدلفہ میں وقوف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1722
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن محمد القَبّاني، حدثنا نصر بن علي الجَهْضَمي، حدثنا وهب بن جَرير، حدثني أبي، عن محمد بن إسحاق، حدثني عبد الله بن أبي بكر، عن عثمان بن أبي سليمان، عن عمِّه نافع بن جُبير، عن أبيه جُبير بن مُطعِمٍ، قال: كانت قريشٌ إنما تَدفَعُ من المزدلِفة ويقولون: نحن الحُمْسُ فلا نَخرجُ من الحَرَم، وقد تَرَكوا الموقفَ على عرفة، قال: فرأيتُ رسول الله ﷺ في الجاهلية يقفُ مع الناس بعَرفةَ على جَمَلٍ له، ثم يُصبح مع قومه بالمزدلِفة فيَقفُ معهم يَدفَع إذا دَفَعوا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریش (زمانہ جاہلیت میں) مزدلفہ ہی سے کوچ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم ”حمس“ (حرم کے خاص لوگ) ہیں اس لیے حرم سے باہر نہیں جائیں گے، اور وہ عرفہ میں وقوف چھوڑ دیتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو زمانہ جاہلیت میں اپنے اونٹ پر لوگوں کے ساتھ عرفہ میں وقوف کرتے دیکھا، پھر آپ اپنی قوم کے ساتھ مزدلفہ میں صبح کرتے اور جب وہ کوچ کرتے تو آپ بھی ان کے ساتھ کوچ فرماتے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار - وقد صرَّح بالتحديث فانتفت شبهة تدليسه. وهب بن جرير: هو ابن حازم.
درجۂ حدیث: محمد بن اسحاق کی وجہ سے سند "حسن" ہے، انہوں نے سماع کی تصریح کر دی ہے جس سے ان کے تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا ہے۔
فنی نکتہ: وہب بن جریر سے مراد ابن حازم ہیں۔
وأخرجه ابن خزيمة (2843) عن نصر بن علي الجهضمي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2843) نے نصر بن علی الجہضمی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (1578) من طريق محمد بن يحيى القُطعي، عن وهب بن جرير، به.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (1578) میں وہب بن جریر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي بنحوه برقم (1792) و (1793).
تکرار: اسی طرح کی روایت آگے نمبر (1792) اور (1793) پر آئے گی۔
درجۂ حدیث: محمد بن اسحاق کی وجہ سے سند "حسن" ہے، انہوں نے سماع کی تصریح کر دی ہے جس سے ان کے تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا ہے۔
فنی نکتہ: وہب بن جریر سے مراد ابن حازم ہیں۔
وأخرجه ابن خزيمة (2843) عن نصر بن علي الجهضمي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2843) نے نصر بن علی الجہضمی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (1578) من طريق محمد بن يحيى القُطعي، عن وهب بن جرير، به.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (1578) میں وہب بن جریر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي بنحوه برقم (1792) و (1793).
تکرار: اسی طرح کی روایت آگے نمبر (1792) اور (1793) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1722 سے ماخوذ ہے۔