حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا أبو بَكْرةَ بكَّارُ بن قُتيبة القاضي بمصر، حدثنا صفوان بن عيسى، حدثنا الحارث بن عبد الرحمن بن أبي ذُباب، عن مجاهد، عن عبد الله بن سَخْبَرةَ قال: غَدَوتُ مع عبد الله بن مسعودٍ من مِنى إلى عَرَفةَ، وكان عبد الله رجلًا آدمَ له ضَفِيرتانِ، عليه مَسْحةُ أهل البادية، وكان يُلبِّي، فاجتمع عليه غَوْغاءٌ من غَوْغاءِ الناس فقالوا: يا أعرابيُّ، إنَّ هذا ليس بيومِ تلبيةٍ، إنَّما هو التكبير، قال: فعند ذلك التَفَتَ إليَّ فقال: جَهِلَ الناسُ أم نَسُوا؟ والذي بَعَثَ محمدًا ﷺ بالحق، لقد خرجتُ مع رسول الله ﷺ من مِنى إلى عَرَفةَ، فما تَرَكَ التلبيةَ حتى رَمَى الجَمْرةَ، إلَّا أن يَخلِطَها بتكبيرٍ أو تهليلٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن سخبیرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ سے عرفہ کی طرف گیا، ابن مسعود گندمی رنگ کے صاحبِ گیسو شخص تھے اور ان پر دیہاتیوں کی سی سادگی تھی، وہ بلند آواز سے تلبیہ پکار رہے تھے تو کچھ نادان لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے اور کہنے لگے: اے اعرابی! یہ تلبیہ پکارنے کا نہیں بلکہ تکبیر کا دن ہے، اس پر انہوں نے میری طرف رخ کر کے فرمایا: لوگ نادان بن گئے ہیں یا بھول گئے ہیں؟ اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ سے عرفہ کی طرف نکلا تو آپ ﷺ نے جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پکارنا نہیں چھوڑا تھا، البتہ آپ تلبیہ کے درمیان تکبیر اور تہلیل («لا اله الا الله») بھی ملا لیتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا أحمد بن سيّار، حدّثنا محمد بن كَثير، حدّثنا سفيان بن عُيينة، عن زياد بن سعد، عن أبي الزُّبير، عن أبي مَعبَد (1)، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ: "ارفَعوا عن بَطْنِ عُرَنةَ، وارفَعوا عن بَطْنِ مُحسِّر" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده على شرط الشيخين صحيحٌ، إلَّا أنَّ فيه تقصيرًا في سنده:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده على شرط الشيخين صحيحٌ، إلَّا أنَّ فيه تقصيرًا في سنده:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بطنِ عُرنہ سے دور رہو (وہاں وقوف نہ کرو) اور بطنِ مُحسر سے بھی دور رہو (وہاں قیام نہ کرو)۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک صحیح شاہد شیخین کی شرط پر بھی ہے، البتہ اس کی سند میں کچھ اختصار ہے:
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک صحیح شاہد شیخین کی شرط پر بھی ہے، البتہ اس کی سند میں کچھ اختصار ہے:
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جُرَيج، أخبرني عطاء، عن ابن عباس قال: كان يقال: ارتفِعوا عن مُحسِّر، وارتفِعوا عن عُرَنات. أما قوله: العُرَنات، فالوقوفُ بعَرَفةَ: أنْ لا تَقِفوا بعُرَنة، وأما قوله: عن مُحسِّر، فالنزول بجَمْعٍ: أنْ لا يَنزلوا مُحسِّرًا (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے تھے کہ کہا جاتا تھا: بطنِ مُحسر سے دور رہو اور عُرنات سے بھی دور رہو۔ عُرنات سے مراد یہ ہے کہ عرفہ میں وقوف کے دوران وادیِ عُرنہ میں قیام نہ کیا جائے، اور مُحسر سے مراد یہ ہے کہ مزدلفہ میں قیام کے دوران وادیِ مُحسر میں قیام نہ کیا جائے۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان. وحدثني علي بن عيسى - واللفظ له - حدّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر، حدثنا سفيان قال: حفظتُه من عمرو بن دينار، عن عمرو بن عبد الله بن صفوان، عن خاله يزيد بن شَيْبان قال: كنّا وقوفًا من وراء المَوقِف - موقفًا يتباعدُه عمرٌو من الإمام - فأتانا ابنُ مِرْبَع الأنصاريُّ فقال: إنِّي رسولُ رسولِ الله ﷺ إليكم، يقول لكم: "كونوا على مَشَاعرِكم هذه، فإنَّكم على إرْثٍ من إرْثِ إبراهيم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا یزید بن شیبان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم جائے وقوف سے پیچھے کھڑے تھے تو ہمارے پاس ابنِ مِربَع انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں، آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”اپنی ان عبادت گاہوں (مواقفِ حج) پر قائم رہو کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی میراث (طریقہِ حج) پر ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔