حدثنا أبو علي الحافظ، حدثنا محمد بن الحسين بن حفص الخَثْعَمي، حدثنا علي بن سعيد بن مسروق الكِنْدي، حدثنا عيسى بن سَوَادةَ، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن زاذانَ قال: مَرِضَ ابن عباس مرضًا شديدًا، فدعا وَلَدَه فجمعهم، فقال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَن حَجَّ من مكةَ ماشيًا حتى يَرجِعَ إلى مكة، كَتَبَ الله له بكلِّ خُطْوةٍ سبعَ مئة حسنةٍ، كلُّ حسنةٍ مثلُ حَسَنات الحَرَم"، قيل: وما حَسَناتُ الحَرَم؟ قال: "بكلِّ حسنةٍ مئةُ ألفِ حَسَنة" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ سخت بیمار ہوئے تو اپنی اولاد کو بلا کر جمع کیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص مکہ سے پیدل حج کرے یہاں تک کہ مکہ ہی واپس آ جائے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر قدم کے بدلے سات سو نیکیاں لکھتا ہے اور ہر نیکی حرم کی نیکیوں کے برابر ہوتی ہے“، پوچھا گیا: حرم کی نیکیاں کیا ہیں؟ فرمایا: ”ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ نیکیاں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن محمد بن جعفر الجُلُودي، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا أبو قُرَّةَ، عن موسى بن عُقْبة، عن نافع، عن ابن عمرَ قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا كانَ قبلَ التَّرويةِ بيومٍ خَطَبَ الناسَ، فأخبَرَهم بمناسِكِهم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یومِ ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) سے ایک دن پہلے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے اور انہیں ان کے مناسکِ حج کے متعلق آگاہی دیتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا الأسود بن عامر، حدثنا أبو كُدَينةَ يحيى بن المُهلَّب البَجَلي، عن الأعمش، عن الحَكَم، عن مِقْسَم، عن ابن عباس: أنَّ النبيَّ ﷺ صلَّى خمسَ صلواتٍ بمِنًى (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے منیٰ میں پانچ نمازیں (ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر) ادا فرمائیں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد، عن القاسم بن محمد، عن عبد الله بن الزُّبير قال: من سُنَّةِ الحجِّ أن يُصلِّي الإمامُ الظُّهرَ والعصرَ والمغربَ والعِشاءَ الآخرةَ والصُّبحَ بمنًى، ثم يَغدُوَ إلى عَرَفةَ، فيَقيلَ حيثُ قُضِي له، حتى إذا زالت الشمسُ خَطَبَ الناسَ، ثم صلَّى الظُّهرَ والعصرَ جميعًا، ثم وَقَفَ بعرفاتٍ حتى تَغيبَ الشمسُ، ثم يُفيض فيصلِّي بالمُزدلِفَةِ أو حيثُ قَضَى الله، ثم يقفُ بجَمْعٍ، حتى [إذا] أسفَرَ دَفَعَ قبلَ طُلوع الشمس، فإذا رَمَى الجمرةَ الكُبرى حلَّ له كلُّ شيءٍ حَرُمَ عليه إلَّا النساءَ والطِّيبَ حتى يَزورَ البيت (1).
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سنتِ حج یہ ہے کہ امام منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کرے، پھر عرفہ کی طرف روانہ ہو اور جہاں میسر ہو وہاں دوپہر کو آرام کرے، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جائے تو لوگوں کو خطبہ دے، پھر ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ جمع کر کے پڑھے، پھر غروبِ آفتاب تک عرفات میں وقوف کرے، پھر وہاں سے روانہ ہو کر مزدلفہ میں یا جہاں اللہ مقدر کرے نماز پڑھے، پھر مزدلفہ میں قیام کرے یہاں تک کہ جب پو پھٹ جائے اور خوب روشنی ہو جائے تو طلوعِ آفتاب سے پہلے کوچ کرے، پھر جب جمرہ کبریٰ کی رمی کر لے تو اس کے لیے وہ سب چیزیں حلال ہو جاتی ہیں جو اس پر (احرام کی وجہ سے) حرام تھیں سوائے عورتوں اور خوشبو کے، یہاں تک کہ وہ بیت اللہ کی زیارت (طوافِ افاضہ) کر لے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔