المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
الْوُقُوفُ بِعَرَفَاتٍ باب: عرفات میں وقوف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1715
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا أحمد بن سيّار، حدّثنا محمد بن كَثير، حدّثنا سفيان بن عُيينة، عن زياد بن سعد، عن أبي الزُّبير، عن أبي مَعبَد (1)، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ: "ارفَعوا عن بَطْنِ عُرَنةَ، وارفَعوا عن بَطْنِ مُحسِّر" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده على شرط الشيخين صحيحٌ، إلَّا أنَّ فيه تقصيرًا في سنده:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بطنِ عُرنہ سے دور رہو (وہاں وقوف نہ کرو) اور بطنِ مُحسر سے بھی دور رہو (وہاں قیام نہ کرو)۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک صحیح شاہد شیخین کی شرط پر بھی ہے، البتہ اس کی سند میں کچھ اختصار ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرف في النسخ الخطية إلى: أبي سعيد، والصواب ما أثبتنا، وأبو معبد هذا: هو نافذ مولى ابن عباس.
فنی نکتہ: خطی نسخوں میں یہ نام "ابو سعید" تحریف (غلطی) ہو گیا ہے، درست نام وہی ہے جو ہم نے ثابت کیا (ابو معبد)۔ ابو معبد سے مراد نافذ ہیں جو ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
(2) حديث صحيح، محمد بن كثير - وهو ابن أبي عطاء المصيصي - وإن كان متكلمًا فيه، فهو يعتبر به في المتابعات والشواهد، وقد توبع، ومن فوقه ثقات. زياد بن سعد: هو ابن عبد الرحمن الخراساني، وأبو الزبير: هو محمد بن مسلم بن تدرس.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔ محمد بن کثیر اگرچہ کلام زدہ ہیں مگر متابعات و شواہد میں ان کا اعتبار کیا جاتا ہے، اور یہاں ان کی متابعت موجود ہے، نیز ان سے اوپر کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ: زیاد بن سعد خراسانی ہیں اور ابو الزبیر سے مراد محمد بن مسلم بن تدرس ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1896) عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. ولفظه: "ارفعوا عن بطن محسِّر، وعليكم بمثل حصى الخذْف". وانظر ما سيأتي مطوَّلًا برقم (5280).
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (3/1896) نے سفیان بن عیینہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس کے الفاظ ہیں: "وادیِ محسر سے تیزی سے نکل جاؤ اور تم پر لازم ہے کہ خذف (چھوٹی انگلی کے برابر) جیسی کنکریاں مارو"۔ اس کی تفصیل آگے نمبر (5280) پر آئے گی۔
وفي الباب عن جبير بن مطعم عند أحمد 27/ (16751)، وابن حبان (3854)، وإسناده ضعيف بسبب انقطاعه.
متابعات و شواہد: اس باب میں جبیر بن مطعمؓ کی حدیث احمد اور ابن حبان میں ہے، مگر انقطاع کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔
وعن جابر بن عبد الله عند ابن ماجه (3012)، وفيه القاسم بن عبد الله العمري، وهو متروك.
متابعات و شواہد: حضرت جابرؓ سے ابن ماجہ میں روایت ہے، مگر اس میں قاسم بن عبداللہ العمری "متروک" (ناقابلِ اعتبار) راوی ہے۔
وبطن عُرَنة، بضم العين وفتح الراء: موضع عند الموقف بعرفات.
توضیح: "بطنِ عُرنہ" عرفات میں ٹھہرنے کی جگہ کے پاس ایک مقام کا نام ہے۔
وبطن مُحسِّر، بضم الميم وفتح الحاء وكسر السين المشددة: وادٍ بين عرفات ومنى.
توضیح: "بطنِ مُحسِّر" عرفات اور منیٰ کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔
فنی نکتہ: خطی نسخوں میں یہ نام "ابو سعید" تحریف (غلطی) ہو گیا ہے، درست نام وہی ہے جو ہم نے ثابت کیا (ابو معبد)۔ ابو معبد سے مراد نافذ ہیں جو ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
(2) حديث صحيح، محمد بن كثير - وهو ابن أبي عطاء المصيصي - وإن كان متكلمًا فيه، فهو يعتبر به في المتابعات والشواهد، وقد توبع، ومن فوقه ثقات. زياد بن سعد: هو ابن عبد الرحمن الخراساني، وأبو الزبير: هو محمد بن مسلم بن تدرس.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔ محمد بن کثیر اگرچہ کلام زدہ ہیں مگر متابعات و شواہد میں ان کا اعتبار کیا جاتا ہے، اور یہاں ان کی متابعت موجود ہے، نیز ان سے اوپر کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ: زیاد بن سعد خراسانی ہیں اور ابو الزبیر سے مراد محمد بن مسلم بن تدرس ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1896) عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. ولفظه: "ارفعوا عن بطن محسِّر، وعليكم بمثل حصى الخذْف". وانظر ما سيأتي مطوَّلًا برقم (5280).
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (3/1896) نے سفیان بن عیینہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس کے الفاظ ہیں: "وادیِ محسر سے تیزی سے نکل جاؤ اور تم پر لازم ہے کہ خذف (چھوٹی انگلی کے برابر) جیسی کنکریاں مارو"۔ اس کی تفصیل آگے نمبر (5280) پر آئے گی۔
وفي الباب عن جبير بن مطعم عند أحمد 27/ (16751)، وابن حبان (3854)، وإسناده ضعيف بسبب انقطاعه.
متابعات و شواہد: اس باب میں جبیر بن مطعمؓ کی حدیث احمد اور ابن حبان میں ہے، مگر انقطاع کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔
وعن جابر بن عبد الله عند ابن ماجه (3012)، وفيه القاسم بن عبد الله العمري، وهو متروك.
متابعات و شواہد: حضرت جابرؓ سے ابن ماجہ میں روایت ہے، مگر اس میں قاسم بن عبداللہ العمری "متروک" (ناقابلِ اعتبار) راوی ہے۔
وبطن عُرَنة، بضم العين وفتح الراء: موضع عند الموقف بعرفات.
توضیح: "بطنِ عُرنہ" عرفات میں ٹھہرنے کی جگہ کے پاس ایک مقام کا نام ہے۔
وبطن مُحسِّر، بضم الميم وفتح الحاء وكسر السين المشددة: وادٍ بين عرفات ومنى.
توضیح: "بطنِ مُحسِّر" عرفات اور منیٰ کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1715 سے ماخوذ ہے۔