المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
الْوُقُوفُ بِعَرَفَاتٍ باب: عرفات میں وقوف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1716
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جُرَيج، أخبرني عطاء، عن ابن عباس قال: كان يقال: ارتفِعوا عن مُحسِّر، وارتفِعوا عن عُرَنات. أما قوله: العُرَنات، فالوقوفُ بعَرَفةَ: أنْ لا تَقِفوا بعُرَنة، وأما قوله: عن مُحسِّر، فالنزول بجَمْعٍ: أنْ لا يَنزلوا مُحسِّرًا (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے تھے کہ کہا جاتا تھا: بطنِ مُحسر سے دور رہو اور عُرنات سے بھی دور رہو۔ عُرنات سے مراد یہ ہے کہ عرفہ میں وقوف کے دوران وادیِ عُرنہ میں قیام نہ کیا جائے، اور مُحسر سے مراد یہ ہے کہ مزدلفہ میں قیام کے دوران وادیِ مُحسر میں قیام نہ کیا جائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العنبري، ويحيى بن سعيد: هو القطان، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز، وعطاء: هو ابن أبي رباح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابو المثنیٰ سے مراد معاذ بن مثنیٰ العنبری، یحییٰ بن سعید سے مراد القطان، ابن جریج سے مراد عبدالملک اور عطا سے مراد ابن ابی رباح ہیں۔
وأخرجه ابن خزيمة (2817) عن عبد الله بن هاشم، عن يحيى بن سعيد بهذا الإسناد.
وأخرجه البيهقي 5/ 115 من طريق عبد الوهاب بن عطاء الخفاف، عن ابن جريج، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس قال: ارتفعوا عن عرنات … فذكره. فجعله من قول ابن عباس. وعبد الوهاب بن عطاء ربما أخطأ كما قال ابن حجر.
حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2817) نے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
علّت / فنی نکتہ: بیہقی نے عبدالوہاب بن عطا کے طریق سے اسے ابن عباسؓ کا اپنا قول (موقوف) قرار دیا ہے۔ ابن حجر کے مطابق عبدالوہاب بن عطا بسا اوقات غلطی کر جاتے تھے۔
وخالف في ذلك يعقوبُ بن عطاء فرفعه، أخرجه الطبراني في "الكبير" (11408)، و"الأوسط" (9496) من طريق محمد بن جعفر، وهو الحنفي اليمامي، عن يعقوب بن عطاء، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "كل عرفات موقف، وارتفعوا عن بطن عرنة، وكل جمع مشعر، وارتفعوا عن بطن محسر". ويعقوب بن عطاء هذا ضعيف، والراوي عنه محمد بن جعفر اليمامي سيئ الحفظ.
سندی اختلاف: یعقوب بن عطا نے اس کے برعکس اسے "مرفوع" (نبی ﷺ کا قول) بیان کیا ہے، جسے طبرانی نے روایت کیا ہے۔ مگر یعقوب بن عطا خود ضعیف ہے اور اس کا راوی محمد بن جعفر یمامی بھی "سیئ الحفظ" (خراب حافظے والا) ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابو المثنیٰ سے مراد معاذ بن مثنیٰ العنبری، یحییٰ بن سعید سے مراد القطان، ابن جریج سے مراد عبدالملک اور عطا سے مراد ابن ابی رباح ہیں۔
وأخرجه ابن خزيمة (2817) عن عبد الله بن هاشم، عن يحيى بن سعيد بهذا الإسناد.
وأخرجه البيهقي 5/ 115 من طريق عبد الوهاب بن عطاء الخفاف، عن ابن جريج، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس قال: ارتفعوا عن عرنات … فذكره. فجعله من قول ابن عباس. وعبد الوهاب بن عطاء ربما أخطأ كما قال ابن حجر.
حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2817) نے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
علّت / فنی نکتہ: بیہقی نے عبدالوہاب بن عطا کے طریق سے اسے ابن عباسؓ کا اپنا قول (موقوف) قرار دیا ہے۔ ابن حجر کے مطابق عبدالوہاب بن عطا بسا اوقات غلطی کر جاتے تھے۔
وخالف في ذلك يعقوبُ بن عطاء فرفعه، أخرجه الطبراني في "الكبير" (11408)، و"الأوسط" (9496) من طريق محمد بن جعفر، وهو الحنفي اليمامي، عن يعقوب بن عطاء، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "كل عرفات موقف، وارتفعوا عن بطن عرنة، وكل جمع مشعر، وارتفعوا عن بطن محسر". ويعقوب بن عطاء هذا ضعيف، والراوي عنه محمد بن جعفر اليمامي سيئ الحفظ.
سندی اختلاف: یعقوب بن عطا نے اس کے برعکس اسے "مرفوع" (نبی ﷺ کا قول) بیان کیا ہے، جسے طبرانی نے روایت کیا ہے۔ مگر یعقوب بن عطا خود ضعیف ہے اور اس کا راوی محمد بن جعفر یمامی بھی "سیئ الحفظ" (خراب حافظے والا) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1716 سے ماخوذ ہے۔