المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
فَضِيلَةُ الْحَجِّ مَاشِيًا باب: پیدل حج کرنے کی فضیلت۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد، عن القاسم بن محمد، عن عبد الله بن الزُّبير قال: من سُنَّةِ الحجِّ أن يُصلِّي الإمامُ الظُّهرَ والعصرَ والمغربَ والعِشاءَ الآخرةَ والصُّبحَ بمنًى، ثم يَغدُوَ إلى عَرَفةَ، فيَقيلَ حيثُ قُضِي له، حتى إذا زالت الشمسُ خَطَبَ الناسَ، ثم صلَّى الظُّهرَ والعصرَ جميعًا، ثم وَقَفَ بعرفاتٍ حتى تَغيبَ الشمسُ، ثم يُفيض فيصلِّي بالمُزدلِفَةِ أو حيثُ قَضَى الله، ثم يقفُ بجَمْعٍ، حتى [إذا] أسفَرَ دَفَعَ قبلَ طُلوع الشمس، فإذا رَمَى الجمرةَ الكُبرى حلَّ له كلُّ شيءٍ حَرُمَ عليه إلَّا النساءَ والطِّيبَ حتى يَزورَ البيت (1).
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سنتِ حج یہ ہے کہ امام منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کرے، پھر عرفہ کی طرف روانہ ہو اور جہاں میسر ہو وہاں دوپہر کو آرام کرے، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جائے تو لوگوں کو خطبہ دے، پھر ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ جمع کر کے پڑھے، پھر غروبِ آفتاب تک عرفات میں وقوف کرے، پھر وہاں سے روانہ ہو کر مزدلفہ میں یا جہاں اللہ مقدر کرے نماز پڑھے، پھر مزدلفہ میں قیام کرے یہاں تک کہ جب پو پھٹ جائے اور خوب روشنی ہو جائے تو طلوعِ آفتاب سے پہلے کوچ کرے، پھر جب جمرہ کبریٰ کی رمی کر لے تو اس کے لیے وہ سب چیزیں حلال ہو جاتی ہیں جو اس پر (احرام کی وجہ سے) حرام تھیں سوائے عورتوں اور خوشبو کے، یہاں تک کہ وہ بیت اللہ کی زیارت (طوافِ افاضہ) کر لے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابراہیم بن عبداللہ السعدی، یحییٰ بن سعید الانصاری اور قاسم بن محمد ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه البيهقي 5/ 122 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: بیہقی (5/122) نے اسے حاکم کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2801) عن محمد بن الوليد، عن يزيد بن هارون، به.
حوالہ / مصدر: ابن خزیمہ (2801) نے یزید بن ہارون کے واسطے سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه تامًا: ابن خزيمة (2800)، والطبراني في "الكبير" (14850)، ومختصرًا: ابن أبي شيبة (14760 - عوامة)، وابن خزيمة (2798)، وابن عبد البر في "الاستذكار" (15801) من طرق عن يحيى بن سعيد الأنصاري، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ، طبرانی، ابن ابی شیبہ اور ابن عبدالبر نے مختلف طرق سے یحییٰ بن سعید الانصاری سے روایت کیا ہے۔