المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
فَضِيلَةُ الْحَجِّ مَاشِيًا باب: پیدل حج کرنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1712
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا الأسود بن عامر، حدثنا أبو كُدَينةَ يحيى بن المُهلَّب البَجَلي، عن الأعمش، عن الحَكَم، عن مِقْسَم، عن ابن عباس: أنَّ النبيَّ ﷺ صلَّى خمسَ صلواتٍ بمِنًى (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے منیٰ میں پانچ نمازیں (ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر) ادا فرمائیں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح، رجاله ثقات. الأعمش: هو سليمان بن مهران، والحكم: هو ابن عُتيبة، ومقسم: هو مولى ابن عباس.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے اور تمام راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ: اعمش سے مراد سلیمان بن مہران، حکم سے مراد ابن عتیبہ اور مقسم سے مراد ابن عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
وأخرجه أحمد 4/ (2700) و (2765) عن الأسود بن عامر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (4/2700، 2765) نے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج أبو داود (1911) من طريق عمار بن رزيق، والترمذي (880) من طريق عبد الله بن الأجلح، كلاهما عن الأعمش، به إلى ابن عباس قال: صلى رسول الله ﷺ الظهر يوم التروية، والفجر يوم عرفة بمنى.
حوالہ / مصدر: ابوداؤد (1911) اور ترمذی (880) نے اعمش کے واسطے سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے یومِ ترویہ کو ظہر اور یومِ عرفہ کو منیٰ میں فجر کی نماز پڑھی۔
وأخرج ابن ماجه (3004)، والترمذي (879) من طريق إسماعيل بن مسلم، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس قال: صلى بنا رسول الله ﷺ بمنى الظهر والعصر والمغرب والعشاء والفجر، ثم غدا إلى عرفات. قال الترمذي: وإسماعيل بن مسلم قد تكلموا فيه من قبل حفظه.
حوالہ / مصدر: ابن ماجہ اور ترمذی نے اسماعیل بن مسلم کے واسطے سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے منیٰ میں پانچوں نمازیں پڑھیں، پھر عرفات روانہ ہوئے۔
علّت / فنی نکتہ: امام ترمذی نے کہا کہ اسماعیل بن مسلم کے حافظے پر کلام کیا گیا ہے۔
وفي الباب عن عبد الله بن الزبير، وسيأتي بعد هذا.
متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے بھی روایت ہے جو آگے آئے گی۔
وعن جابر ضمن حديثه الطويل في الحج، أخرجه مسلم (1218).
متابعات و شواہد: حضرت جابرؓ کی طویل حدیث (مسلم 1218) میں بھی اس کا ذکر ہے۔
وعن ابن عمر عند أحمد 10/ (6131)، وابن ماجه (3005).
متابعات و شواہد: حضرت ابن عمرؓ سے بھی احمد اور ابن ماجہ میں یہ روایت موجود ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے اور تمام راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ: اعمش سے مراد سلیمان بن مہران، حکم سے مراد ابن عتیبہ اور مقسم سے مراد ابن عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
وأخرجه أحمد 4/ (2700) و (2765) عن الأسود بن عامر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (4/2700، 2765) نے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج أبو داود (1911) من طريق عمار بن رزيق، والترمذي (880) من طريق عبد الله بن الأجلح، كلاهما عن الأعمش، به إلى ابن عباس قال: صلى رسول الله ﷺ الظهر يوم التروية، والفجر يوم عرفة بمنى.
حوالہ / مصدر: ابوداؤد (1911) اور ترمذی (880) نے اعمش کے واسطے سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے یومِ ترویہ کو ظہر اور یومِ عرفہ کو منیٰ میں فجر کی نماز پڑھی۔
وأخرج ابن ماجه (3004)، والترمذي (879) من طريق إسماعيل بن مسلم، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس قال: صلى بنا رسول الله ﷺ بمنى الظهر والعصر والمغرب والعشاء والفجر، ثم غدا إلى عرفات. قال الترمذي: وإسماعيل بن مسلم قد تكلموا فيه من قبل حفظه.
حوالہ / مصدر: ابن ماجہ اور ترمذی نے اسماعیل بن مسلم کے واسطے سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے منیٰ میں پانچوں نمازیں پڑھیں، پھر عرفات روانہ ہوئے۔
علّت / فنی نکتہ: امام ترمذی نے کہا کہ اسماعیل بن مسلم کے حافظے پر کلام کیا گیا ہے۔
وفي الباب عن عبد الله بن الزبير، وسيأتي بعد هذا.
متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے بھی روایت ہے جو آگے آئے گی۔
وعن جابر ضمن حديثه الطويل في الحج، أخرجه مسلم (1218).
متابعات و شواہد: حضرت جابرؓ کی طویل حدیث (مسلم 1218) میں بھی اس کا ذکر ہے۔
وعن ابن عمر عند أحمد 10/ (6131)، وابن ماجه (3005).
متابعات و شواہد: حضرت ابن عمرؓ سے بھی احمد اور ابن ماجہ میں یہ روایت موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1712 سے ماخوذ ہے۔