المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
تَغْطِيَةُ الْوَجْهِ لِلْمُحْرِمَةِ باب: احرام والی عورت کے لیے چہرہ ڈھانپنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1686
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا زكريا بن عَدِيّ، حدثنا علي بن مُسهِر، عن هشام بن عُروة، عن فاطمةَ بنت المُنذِر، عن أسماء بنت أبي بكرٍ قالت: كنا نُغطِّي وُجوهَنا من الرِّجال، وكنا نَتمشِطُ قبلَ ذلك في الإحرام (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ ہم مردوں سے اپنے چہرے چھپایا کرتی تھیں، اور اس سے قبل حالتِ احرام میں ہم بالوں میں کنگھی بھی کیا کرتی تھیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح، على خلاف في إسناده لا يضر، كما سيأتي هشام بن عروة: هو ابن الزبير بن العوام، وفاطمة بنت المنذر هي زوجته، وهي بنت المنذر بن الزبير بن العوام، وأسماء بنت أبي بكر جدتهما.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ہشام بن عروہ، ان کی زوجہ فاطمہ بنت المنذر اور ان کی دادی حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه ابن خزيمة (2690) عن محمد بن العلاء بن كريب، عن زكريا بن عدي، عن إبراهيم بن حميد، عن هشام بن عروة، بهذا الإسناد. وبهذا يكون محمد بن العلاء قد خالف محمدَ بنَ شاذان، فجعل إبراهيم بن حميد بدلًا من علي بن مسهر، ومحمد بن العلاء وإن كان أوثق من محمد بن شاذان وأشهر - إلّا أنَّ هذا الخلاف لا يضر في صحة الإسناد، إذ إنَّ كُلًّا من علي بن مسهر وإبراهيم بن حميد ثقة.
حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2690) نے زکریا بن عدی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ سند میں راویوں کا معمولی اختلاف صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا کیونکہ دونوں (علی بن مسہر اور ابراہیم بن حمید) ثقہ ہیں۔
وأخرج مالك في "الموطأ" 1/ 328 عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر قالت: كنا نخمِّر وجوهنا ونحن محرمات، ونحن مع أسماء بنت أبي بكر الصديق.
حوالہ / مصدر: امام مالک نے "الموطأ" (1/ 328) میں فاطمہ بنت المنذر سے روایت کیا کہ ہم حالتِ احرام میں اپنے چہرے ڈھانپ لیا کرتی تھیں اور ہم حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ کے ساتھ ہوتی تھیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ہشام بن عروہ، ان کی زوجہ فاطمہ بنت المنذر اور ان کی دادی حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه ابن خزيمة (2690) عن محمد بن العلاء بن كريب، عن زكريا بن عدي، عن إبراهيم بن حميد، عن هشام بن عروة، بهذا الإسناد. وبهذا يكون محمد بن العلاء قد خالف محمدَ بنَ شاذان، فجعل إبراهيم بن حميد بدلًا من علي بن مسهر، ومحمد بن العلاء وإن كان أوثق من محمد بن شاذان وأشهر - إلّا أنَّ هذا الخلاف لا يضر في صحة الإسناد، إذ إنَّ كُلًّا من علي بن مسهر وإبراهيم بن حميد ثقة.
حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2690) نے زکریا بن عدی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ سند میں راویوں کا معمولی اختلاف صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا کیونکہ دونوں (علی بن مسہر اور ابراہیم بن حمید) ثقہ ہیں۔
وأخرج مالك في "الموطأ" 1/ 328 عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر قالت: كنا نخمِّر وجوهنا ونحن محرمات، ونحن مع أسماء بنت أبي بكر الصديق.
حوالہ / مصدر: امام مالک نے "الموطأ" (1/ 328) میں فاطمہ بنت المنذر سے روایت کیا کہ ہم حالتِ احرام میں اپنے چہرے ڈھانپ لیا کرتی تھیں اور ہم حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ کے ساتھ ہوتی تھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1686 سے ماخوذ ہے۔