کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: محرم کے لیے شکار کے گوشت کا حلال ہونا، بشرطیکہ اس نے خود شکار نہ کیا ہو اور نہ اس کے لیے شکار کیا گیا ہو۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا الحسين بن الحسن المُهاجري، حدثنا هارون بن سعيد الأَيْلي، حدثنا ابن وَهْب، أخبرني يعقوب بن عبد الرحمن الزُّهري ويحيى بن عبد الله بن سالم، أن عَمْرًا مولى المُطَّلب أخبرهما عن المُطَّلب بن عبد الله بن حَنْطب، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله ﷺ أنه قال: "لَحمُ صَيدِ البَرِّ لكم حلالٌ، وأنتم حُرُم ما لم تَصِيدُوه أو يُصاد (1) لكم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خشکی کے شکار کا گوشت تمہارے لیے (حالتِ احرام میں بھی) حلال ہے، جب تک کہ تم اسے خود شکار نہ کرو یا وہ تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن محمد، حدثنا إسحاق بن عيسى بن الطَّباع، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن قيس بن سعد، عن عطاء، عن ابن عباسٍ أنه قال: يا زيدُ بنَ أرقمَ، هل عَلِمتَ أنَّ رسول الله ﷺ أُهدِيَ له بَيضاتُ نعامٍ وهو حرامٌ فردَّهُنَّ؟ قال: نعم (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”اے زید بن ارقم! کیا آپ کے علم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں شتر مرغ کے انڈے تحفے میں پیش کیے گئے تھے جبکہ آپ ﷺ حالتِ احرام میں تھے تو آپ ﷺ نے انہیں واپس فرما دیا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا ابن جُرَيج، أخبرني عبد الله بن عُبيد بن عُمَير، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن أبي عمّارٍ قال: لقيتُ جابرَ بنَ عبد الله فسألتُه عن الضَّبُع، أنأكلُها؟ فقال: نعم، قلتُ: أصيدٌ هي؟ قال: نعم، قلت: أسمعتَه من رسولِ الله ﷺ؟ قال: نعم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد لخّصَه جَرِير بن حازم عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد لخّصَه جَرِير بن حازم عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير:
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن عبداللہ بن ابی عمار بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے لگڑ بگڑ (ضبُع) کے متعلق پوچھا کہ کیا ہم اسے کھا سکتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: ”کیا وہ شکار کے زمرے میں آتا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: ”کیا آپ نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا وكيع، عن جَرِير بن حازم، عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير، عن عبد الرحمن بن أبي عمَّار، عن جابر بن عبد الله قال: جَعَلَ رسولُ الله ﷺ في الضَّبُع يُصيبُه المُحرِمُ كَبْشًا نجديًّا، وجَعَلَه من الصَّيد (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس محرم کے لیے جو لگڑ بگڑ (ضبُع) کو ہلاک کرے، ایک نجدی مینڈھے کا بطور فدیہ فیصلہ فرمایا، اور اسے شکار (صید) قرار دیا۔
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن الجَرَّاح بمَرْو، حدثنا يحيى بن ساسَوَيْهِ، حدثنا محمد بن أبي يعقوب، حدثنا حسان بن إبراهيم، حدثنا إبراهيم الصائغ، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسولُ الله ﷺ: "الضَّبُعَ صَيدٌ، فإذا أصابه المُحرِمُ ففيه جزاءٌ؛ كَبْشٌ مُسِنٌّ، ويُؤكَل" (1).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وإبراهيم بن ميمون الصائغ زاهدٌ عالمٌ، أدرك الشهادة ﵁.
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وإبراهيم بن ميمون الصائغ زاهدٌ عالمٌ، أدرك الشهادة ﵁.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لگڑ بگڑ (ضبُع) ایک شکار ہے، پس جب احرام والا اسے مار دے تو اس کا فدیہ ایک سن رسیدہ مینڈھا ہے، اور اسے کھایا جا سکتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور اسے شیخین نے روایت نہیں کیا، اور ابراہیم بن میمون الصائغ عالمِ زاہد تھے جنہوں نے شہادت کا مرتبہ پایا۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اسے شیخین نے روایت نہیں کیا، اور ابراہیم بن میمون الصائغ عالمِ زاہد تھے جنہوں نے شہادت کا مرتبہ پایا۔