کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تلبیہ کہنے والے کے دائیں بائیں زمین کی ہر چیز کا تلبیہ کہنا۔
حدثني أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا الحسين بن إدريس الأنصاري، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا عَبيدة بن حُميد، حدثني عُمارة بن غَزِيّة، عن أبي حازم، عن سَهْل بن سعدٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ: "ما من مُلَبٍّ يُلبِّي إلَّا لَبّى ما عن يَمينه وعن شِمالِه من شجرٍ وحَجَرٍ حتى تنقطعَ الأرضُ من هاهنا وهاهنا، عن يَمينِه وعن شِمالِه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب بھی کوئی تلبیہ پکارنے والا تلبیہ پکارتا ہے تو اس کے دائیں اور بائیں جانب موجود ہر درخت اور پتھر بھی تلبیہ پکارنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ زمین اپنی دونوں انتہاؤں تک دائیں اور بائیں جانب سے (اسی آواز سے) گونج اٹھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثني يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، حدثني خُصَيف بن عبد الرحمن الجَزَري، عن سعيد بن جُبير قال: قلتُ لعبد الله بن عباس: يا أبا العباس عَجِبتُ لاختلاف أصحاب رسول الله ﷺ في إهلالِ رسولِ الله ﷺ حين أَوجَبَ، فقال: إنِّي لأعلمُ الناسِ بذلك، إِنَّهَا إِنَّما كانت من رسول الله ﷺ حَجةٌ واحدة، فمن هناك اختَلَفوا، خرج رسولُ الله ﷺ حاجًّا، فلمّا صلَّى في مسجده بذي الحُلَيفة ركعتيه أوجَبَه في مَجلِسه، فأهلَّ بالحجِّ حين فَرَغَ من ركعتيه، فسمع ذلك منه أقوامٌ فحَفِظَه (2) عنه، ثم ركب، فلمّا استَقلَّت به ناقتُه أهلَّ، وأدرَكَ ذلك منه أقوامٌ، وذلك أنَّ الناس كانوا يأتون أرسالًا، فسَمِعوه حين استقلَّت به ناقتُه يُهِلُّ، فقالوا: إنما أهلَّ رسول الله ﷺ حين استقلَّت به ناقتُه، ثم مَضَى رسولُ الله ﷺ، فلما عَلَا على شَرَفِ البَيْداء أهلَّ، وأدرَكَ ذلك منه أقوامٌ، فقالوا: إنما أهلَّ حين عَلَا على شَرَفِ البيداء، وايمُ الله، لقد أوجَبَ في مُصلّاه، وأهلَّ حين استقلَّت به ناقتُه وأهلَّ حين عَلَا شَرَفَ البَيْداء. قال سعيد بن جُبير: فمَن أخذ بقول ابن عباس، أهلَّ في مُصلّاه إِذا فَرَغَ من ركعتيه (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم مفسَّر في الباب، ولم يخُرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في جُمادى الآخرة سنة سَتِّ وتسعين وثلاث مئة:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم مفسَّر في الباب، ولم يخُرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في جُمادى الآخرة سنة سَتِّ وتسعين وثلاث مئة:
حافظ طلحہ بابر
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوعباس! مجھے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے اس اختلاف پر حیرت ہوتی ہے جو آپ ﷺ کے احرام باندھنے کے مقام کے بارے میں ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں لوگوں میں اس معاملے کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں، اصل میں رسول اللہ ﷺ نے صرف ایک ہی حج کیا تھا، وہیں سے لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا؛ رسول اللہ ﷺ حج کے لیے روانہ ہوئے، جب آپ ﷺ نے ذوالحلیفہ کی مسجد میں دو رکعتیں ادا کیں تو اسی مجلس میں احرام واجب کیا اور نماز سے فارغ ہوتے ہی تلبیہ پکارا، تو کچھ لوگوں نے وہیں سے سن لیا اور اسے یاد رکھا، پھر آپ ﷺ سوار ہوئے اور جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ نے پھر تلبیہ پکارا، اور کچھ لوگوں نے وہیں سے سنا، اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ گروہ در گروہ آ رہے تھے، انہوں نے اس وقت سنا جب اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر کھڑی ہوئی تھی تو انہوں نے سمجھا کہ آپ ﷺ نے اسی وقت احرام باندھا ہے، پھر رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور جب بیداء کی بلندی پر چڑھے تو پھر تلبیہ پکارا، تو کچھ لوگوں نے وہاں سنا اور سمجھا کہ آپ ﷺ نے اسی وقت احرام باندھا ہے؛ حالانکہ اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے اپنے مصلے پر ہی احرام واجب کر لیا تھا، پھر اونٹنی کے سیدھا کھڑے ہونے پر بھی تلبیہ پکارا اور بیداء کی بلندی پر بھی۔“ سعید بن جبیر کہتے ہیں: ”چنانچہ جو شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کو اختیار کرے وہ نماز سے فارغ ہوتے ہی اپنے مصلے پر احرام باندھ لے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح اور اس باب میں مفصل ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح اور اس باب میں مفصل ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عمرو عثمانُ بن أحمد بن عبد الله بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وَهْب بن جَرِير، حدثنا أبي، قال: سمعتُ محمد بن إسحاق يحدِّث عن أبي الزِّناد، عن عائشةَ بنت سعد بن أبي وقاصٍ قالت: قال سعد بنُ أبي وقّاص: كان رسول الله ﷺ إذا أخَذَ طريقَ الفُرْع أهلَّ إذا استقلَّت به راحلتُه (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب فرع (مدینہ کے قریب ایک مقام) کے راستے سے تشریف لے جاتے تو اس وقت تلبیہ پکارنا شروع کرتے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔