حدیث نمبر: 1679
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا ابن جُرَيج، أخبرني عبد الله بن عُبيد بن عُمَير، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن أبي عمّارٍ قال: لقيتُ جابرَ بنَ عبد الله فسألتُه عن الضَّبُع، أنأكلُها؟ فقال: نعم، قلتُ: أصيدٌ هي؟ قال: نعم، قلت: أسمعتَه من رسولِ الله ﷺ؟ قال: نعم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد لخّصَه جَرِير بن حازم عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير:
حافظ طلحہ بابر

عبدالرحمن بن عبداللہ بن ابی عمار بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے لگڑ بگڑ (ضبُع) کے متعلق پوچھا کہ کیا ہم اسے کھا سکتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: ”کیا وہ شکار کے زمرے میں آتا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: ”کیا آپ نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1679
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،ابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز.» [ترقيم الرساله 1679] [ترقيم الشركة 1667]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. ابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابن جریج سے مراد عبدالملک بن عبدالعزیز ہیں۔
وأخرجه أحمد 22/ (14425) و (14449)، والترمذي (851) و (1791)، والنسائي (3805) و (4816)، وابن حبان (3965) من طرق عن ابن جريج، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح، وقال البخاري - كما في "العلل الكبير" للترمذي (551) -: هو حديث صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے احمد 22/ (14425 وغیرہ)، ترمذی (851، 1791)، نسائی اور ابن حبان نے ابن جریج کے طریق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی اور امام بخاری نے اسے "صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 22 / (14165)، وابن ماجه (3236) من طريق إسماعيل بن أمية، عن عبد الله بن عبيد بن عمير، به. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے احمد 22 / (14165) اور ابن ماجہ نے اسماعیل بن امیہ عن عبداللہ بن عبید بن عمیر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
قال الإمام البغوي في "شرح السنة" 7/ 271: اختلف أهل العلم في إباحة لحم الضبع، فروي عن سعد بن أبي وقاص أنه كان يأكل الضَّبع، وروي عن ابن عباس إباحة لحم الضبع، وهو قول عطاء، وإليه ذهب الشافعي وأحمد وإسحاق وأبو ثور، وكرهه جماعة، يروى ذلك عن سعيد بن المسيب، وبه قال ابن المبارك ومالك والثوري وأصحاب الرأي، واحتجوا بأنَّ النبي ﷺ نهى عن أكل كل ذي ناب من السباع، وهذا عند الآخرين عامٌّ خصه حديث جابر.
مجموعی اصول / قاعدہ: امام بغوی کہتے ہیں کہ لکڑ بگھڑ (ضبع) کے گوشت پر اختلاف ہے۔ سعد بن ابی وقاص اور ابن عباس ؓ اسے جائز سمجھتے تھے، یہی موقف شافعی، احمد، اسحاق اور ابوثور کا ہے۔ جبکہ امام مالک، ثوری اور اصحابِ رائے اسے مکروہ سمجھتے ہیں کیونکہ نبی ﷺ نے ہر کچلی والے درندے سے منع فرمایا ہے، مگر دوسرے گروہ کے نزدیک یہ ممانعت عام ہے جسے حضرت جابر ؓ کی حدیث نے خاص کر دیا ہے۔
وانظر "شرح مشكل الآثار" للطحاوي 9/ 92 وما بعدها، و "نصب الراية" للزيلعي 4/ 193 - 194.
حوالہ / مصدر: اس بارے میں امام طحاوی کی "شرح مشكل الآثار" اور زیلعی کی "نصب الرایۃ" ملاحظہ فرمائیں۔
تنبيه: وقع اضطراب في الطبعة الهندية القديمة للمستدرك، نتج عنه تداخل بين هذا الحديث وبين الذي بعده، وتبعها في هذا التخليط سائر الطبعات التي اعتمَدَت عليها! ووقع على الصواب في نسخنا الخطية.
سندی اختلاف: المستدرک کے پرانے ہندوستانی ایڈیشن میں یہاں تداخل (گڈ مڈ) ہو گیا تھا جس کی وجہ سے یہ حدیث اگلی حدیث میں مل گئی، مگر ہمارے قلمی نسخوں میں یہ بالکل درست ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1679 سے ماخوذ ہے۔