حدیث نمبر: 1675
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثني يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، حدثني خُصَيف بن عبد الرحمن الجَزَري، عن سعيد بن جُبير قال: قلتُ لعبد الله بن عباس: يا أبا العباس عَجِبتُ لاختلاف أصحاب رسول الله ﷺ في إهلالِ رسولِ الله ﷺ حين أَوجَبَ، فقال: إنِّي لأعلمُ الناسِ بذلك، إِنَّهَا إِنَّما كانت من رسول الله ﷺ حَجةٌ واحدة، فمن هناك اختَلَفوا، خرج رسولُ الله ﷺ حاجًّا، فلمّا صلَّى في مسجده بذي الحُلَيفة ركعتيه أوجَبَه في مَجلِسه، فأهلَّ بالحجِّ حين فَرَغَ من ركعتيه، فسمع ذلك منه أقوامٌ فحَفِظَه (2) عنه، ثم ركب، فلمّا استَقلَّت به ناقتُه أهلَّ، وأدرَكَ ذلك منه أقوامٌ، وذلك أنَّ الناس كانوا يأتون أرسالًا، فسَمِعوه حين استقلَّت به ناقتُه يُهِلُّ، فقالوا: إنما أهلَّ رسول الله ﷺ حين استقلَّت به ناقتُه، ثم مَضَى رسولُ الله ﷺ، فلما عَلَا على شَرَفِ البَيْداء أهلَّ، وأدرَكَ ذلك منه أقوامٌ، فقالوا: إنما أهلَّ حين عَلَا على شَرَفِ البيداء، وايمُ الله، لقد أوجَبَ في مُصلّاه، وأهلَّ حين استقلَّت به ناقتُه وأهلَّ حين عَلَا شَرَفَ البَيْداء. قال سعيد بن جُبير: فمَن أخذ بقول ابن عباس، أهلَّ في مُصلّاه إِذا فَرَغَ من ركعتيه (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم مفسَّر في الباب، ولم يخُرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في جُمادى الآخرة سنة سَتِّ وتسعين وثلاث مئة:
حافظ طلحہ بابر

سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوعباس! مجھے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے اس اختلاف پر حیرت ہوتی ہے جو آپ ﷺ کے احرام باندھنے کے مقام کے بارے میں ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں لوگوں میں اس معاملے کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں، اصل میں رسول اللہ ﷺ نے صرف ایک ہی حج کیا تھا، وہیں سے لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا؛ رسول اللہ ﷺ حج کے لیے روانہ ہوئے، جب آپ ﷺ نے ذوالحلیفہ کی مسجد میں دو رکعتیں ادا کیں تو اسی مجلس میں احرام واجب کیا اور نماز سے فارغ ہوتے ہی تلبیہ پکارا، تو کچھ لوگوں نے وہیں سے سن لیا اور اسے یاد رکھا، پھر آپ ﷺ سوار ہوئے اور جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ نے پھر تلبیہ پکارا، اور کچھ لوگوں نے وہیں سے سنا، اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ گروہ در گروہ آ رہے تھے، انہوں نے اس وقت سنا جب اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر کھڑی ہوئی تھی تو انہوں نے سمجھا کہ آپ ﷺ نے اسی وقت احرام باندھا ہے، پھر رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور جب بیداء کی بلندی پر چڑھے تو پھر تلبیہ پکارا، تو کچھ لوگوں نے وہاں سنا اور سمجھا کہ آپ ﷺ نے اسی وقت احرام باندھا ہے؛ حالانکہ اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے اپنے مصلے پر ہی احرام واجب کر لیا تھا، پھر اونٹنی کے سیدھا کھڑے ہونے پر بھی تلبیہ پکارا اور بیداء کی بلندی پر بھی۔“ سعید بن جبیر کہتے ہیں: ”چنانچہ جو شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کو اختیار کرے وہ نماز سے فارغ ہوتے ہی اپنے مصلے پر احرام باندھ لے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح اور اس باب میں مفصل ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1675
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين، ابن إسحاق - وهو محمد - صرَّح بالتحديث، وخصيف بن عبد الرحمن الجزري - وإن كان في حفظه شيء - مختلف فيه، وحديثه يصلح للمتابعات، وباقي رجاله ثقات. وهو في "مسند أحمد" 4/ (2358).» [ترقيم الرساله 1675] [ترقيم الشركة 1663]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) كذا في نسخنا الخطية، أما في "مسند أحمد": فحفظوا، وفي "سنن أبي داود" و"سنن البيهقي": فحفظته.
توضیح: ہمارے نسخوں میں "حفظوا" ہے جبکہ احمد و ابوداؤد میں "فحفظته" (میں نے اسے یاد رکھا) کے الفاظ ہیں۔
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين، ابن إسحاق - وهو محمد - صرَّح بالتحديث، وخصيف بن عبد الرحمن الجزري - وإن كان في حفظه شيء - مختلف فيه، وحديثه يصلح للمتابعات، وباقي رجاله ثقات. وهو في "مسند أحمد" 4/ (2358).
درجۂ حدیث: دیگر شواہد کی بنا پر حسن لغیرہ ہے۔ ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے اور خصیف بن عبدالرحمن متابعات میں معتبر ہیں۔ یہ مسند احمد 4/ (2358) میں موجود ہے۔
وأخرجه أبو داود (1770) عن يعقوب بن إبراهيم بن سعد الزهري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1770) نے یعقوب بن ابراہیم الزہری کی سند سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (1655).
توضیح: گزشتہ حدیث نمبر (1655) ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1675 سے ماخوذ ہے۔