حدیث نمبر: 1667
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا أحمد بن إسحاق الحضرمي، حدثنا وُهَيب، حدثنا موسى بن عُقبة، حدثني نافعٌ وسالم: أن ابن عمر كان إذا مَرَّ بذِي الحُلَيفة بات بها حتى يُصبحَ، ويخبرُ أنَّ رسول الله ﷺ كان يفعلُ ذلك (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا.
حافظ طلحہ بابر

نافع اور سالم سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ سے گزرتے تو وہاں رات کو قیام فرماتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی، اور وہ یہ بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول بھی یہی تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس طرح اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1667
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وهيب: هو ابن خالد، ونافع: هو مولى ابن عمر، وسالم: هو ابن عبد الله بن عمر.» [ترقيم الرساله 1667] [ترقيم الشركة 1655]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. وهيب: هو ابن خالد، ونافع: هو مولى ابن عمر، وسالم: هو ابن عبد الله بن عمر.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ وُہیب بن خالد، نافع اور سالم بن عبد اللہ بن عمر اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه أبو يعلى (5461)، وابن خزيمة (2615) من طريقين عن أحمد بن إسحاق الحضرمي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابویعلیٰ (5461) اور ابن خزیمہ نے احمد بن اسحاق کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج معناه أحمد 9/ (5594) عن موسى بن طارق، عن موسى بن عقبة، عن نافع وحده: أنَّ ابن عمر كان إذا صدر من الحج أو العمر، أناخ بالبطحاء التي بذي الحليفة، وحدَّث أنَّ رسول الله ﷺ كان يعرِّس بها حتى يصلي صلاة الصبح.
متابعات و شواہد: مسند احمد (9/ 5594) میں مروی ہے کہ ابن عمر ؓ حج سے واپسی پر ذوالحلیفہ کی وادی بطحاء میں قیام کرتے اور بتاتے کہ نبی ﷺ وہاں صبح تک آرام (تعریس) فرماتے تھے۔
وبنحو حديث أحمد أخرجه البخاري (1767)، ومسلم (1345) (432) من طريق أنس بن عياض، عن موسى بن عقبة، عن نافع وحده: كان ابن عمر إذا صدر عن الحج أو العمرة، أناخ بالبطحاء التي بذي الحليفة التي كان النبي ﷺ ينيخ بها. هكذا بصورة الموقوف.
حوالہ / مصدر: بخاری (1767) اور مسلم (1345) نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے کہ ابن عمر ؓ اسی جگہ قیام کرتے تھے جہاں نبی ﷺ کیا کرتے تھے۔
وأخرج البخاري (484) و (491)، ومسلم (1259) (228) من طريق أنس بن عياض، عن موسى بن عقبة، عن نافع وحده: أنَّ ابن عمر أخبره أنَّ رسول الله ﷺ كان ينزل بذي الحليفة حين يعتمر، وفي حجته حين حج … وفيه: فإذا ظهر من بطن وادٍ أناخ بالبطحاء التي على شفير الوادي الشرقية، فعرّس حتى يصبح … الحديث، هذا لفظ البخاري، ولفظ مسلم: أنَّ رسول الله ﷺ كان ينزل بذي طوى، ويبيت حتى يصلي الصبح حين يقدم مكة.
حوالہ / مصدر: بخاری (484) اور مسلم میں صراحت ہے کہ آپ ﷺ ذوالحلیفہ میں قیام فرماتے اور وادی کے مشرقی کنارے پر صبح تک استراحت فرماتے۔ مسلم کے الفاظ میں "ذی طویٰ" کا ذکر بھی ہے۔
وبنحو لفظ مسلم أخرجه أحمد (9 / (5600)، والنسائي (3831) من طريقين آخرين عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر مرفوعًا أيضًا.
درجۂ حدیث: احمد (9/ 5600) اور نسائی (3831) میں یہ روایت ابن عمر ؓ سے مرفوعاً مروی ہے۔
وأخرجه بعبارات بعضها متفق وبعضها مختلف، إلّا أنَّ جميعها في المعنى نفسه: أحمد 8/ (4628) و (4819) و 10/ (5756) و (5922) و (6004)، والبخاري (1532) و (1533) و (1573) و (1574) و (1769) و (1799)، ومسلم (1259) (226) و (1345) (430) و (431)، وأبو داود (1865) و (2012) و (2031) و (2044)، وابن ماجه (3069)، والترمذي (921)، والنسائي (3627) و (4231) من طرق عن نافع، عن ابن عمر.
تفصیلِ روایت: یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ احمد، بخاری، مسلم، ابو داود، ابن ماجہ، ترمذی اور نسائی میں نافع عن ابن عمر کی سند سے بکثرت موجود ہے۔
وأخرج مسلم (1188)، والنسائي (3625) من طريق عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابن عمر قال: بات رسول الله ﷺ بذي الحليفة مبدأه، وصلَّى في مسجدها.
حوالہ / مصدر: مسلم (1188) اور نسائی کے مطابق آپ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں رات گزاری اور وہاں کی مسجد میں نماز پڑھی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1667 سے ماخوذ ہے۔