حدیث نمبر: 1665
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المُثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا العلاء بن المسيَّب، حدثنا أبو أُمامة التَّيمي، قال: كنتُ رجلًا أُكْرِي في هذا الوجه، وكان أناسٌ يقولون لي: إنه ليس لك حجٌّ، فلقيتُ ابن عمر، فقلت: يا أبا عبد الرحمن، إنِّي رجلٌ أُكْرِي في هذا الوجه، وإنَّ أُناسًا يقولون لي: إنَّه ليس لك حجٌّ، فقال: ألست تُحْرمُ وتُلبِّي وتَطوفُ وتُفيضُ من عرفاتٍ وتَرمي الجِمار؟ قال: قلتُ: بلى، قال: فإنَّ لك حجًّا؛ جاء رجلٌ إلى رسول الله ﷺ فسأله عن مثلِ ما سألتَني عنه، فسكتَ عنه رسول الله ﷺ فلم يُجِبْه، حتى نزلت هذه الآية: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [البقرة: 198]، فأرسلَ إليه رسولُ الله ﷺ وقرأَ هذه الآيةَ عليه، وقال: "لك حجٌّ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

ابوامامہ تیمی بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ کے راستے میں سواریاں کرائے پر دیا کرتا تھا، تو بعض لوگوں نے مجھ سے کہا کہ (تجارت کرنے کی وجہ سے) تمہارا حج نہیں ہوتا، پھر میری ملاقات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو میں نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمن! میں اس راستے میں سواریاں کرائے پر دیتا ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ میرا حج قبول نہیں ہوتا، انہوں نے پوچھا: ”کیا تم احرام نہیں باندھتے، لبیک نہیں کہتے، طواف نہیں کرتے، عرفات سے واپسی نہیں کرتے اور جمرات کو کنکریاں نہیں مارتے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں (میں یہ سب کرتا ہوں)۔ انہوں نے فرمایا: ”تو پھر یقیناً تمہارا حج ہو گیا؛ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے ویسا ہی سوال کیا جیسا تم نے مجھ سے کیا، آپ ﷺ خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل (تجارت کے ذریعے) تلاش کرو۔“ [سورة البقرة: 198]، تو آپ ﷺ نے اسے بلا بھیجا اور اسے یہ آیت سنا کر فرمایا: ”تمہارا حج ہو گیا ہے۔““
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1665
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو أمامة التيمي وثقه ابن معين، وقال أبو زرعة" لا بأس به، وروى عنه شعبة. أبو بكر بن إسحاق: هو أحمد وأبو المثنى هو معاذ بن المثنى العنبري.» [ترقيم الرساله 1665] [ترقيم الشركة 1653]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، أبو أمامة التيمي وثقه ابن معين، وقال أبو زرعة" لا بأس به، وروى عنه شعبة. أبو بكر بن إسحاق: هو أحمد وأبو المثنى هو معاذ بن المثنى العنبري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابو امامہ التیمی کی ابن معین نے توثیق کی اور ابوزرعہ نے "لا بأس به" (کوئی حرج نہیں) کہا۔ شعبہ نے ان سے روایت کی ہے۔
راوی پر جرح: ابوبکر بن اسحاق سے مراد احمد ہیں اور ابو المثنیٰ سے مراد معاذ بن المثنیٰ العنبري ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1733) عن مسدد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1733) نے مسدد کی سند سے اسی واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 10/ (6435) من طريق سفيان الثوري، عن العلاء بن المسيب به، إلّا أنه لم يسم أبا أمامة، بل قال: رجل من بني تيم.
حوالہ / مصدر: اسے احمد 10/ (6435) نے سفیان ثوری کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر وہاں ابو امامہ کا نام لینے کے بجائے "بنو تیم کا ایک شخص" کہا گیا ہے۔
وأخرجه أحمد (6434) من طريق الحسن بن عمرو الفقيمي، عن أبي أمامة التيمي، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (6434) نے الحسن بن عمرو الفقیمی کے طریق سے ابو امامہ التیمی کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
قوله: أُكْرِي، أي: أؤاجر الإبل ونحوها للحج.
اہم نکتہ: "أُكْرِي" کا مطلب ہے: میں حج کے لیے اونٹ وغیرہ کرائے پر دیتا ہوں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1665 سے ماخوذ ہے۔