کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: کسی کو بھی بیت اللہ کا طواف کرنے اور وہاں نماز پڑھنے سے کسی وقت نہ روکا جائے۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن أبي الزَّبير، عن عبد الله بن باباه، عن جُبَير بن مُطْعِمٍ: أَنَّ النبيَّ ﷺ قال: "يا بني عبدِ مَنَاف، لا تَمنعَوا أحدًا طافَ بهذا البيت وصلَّى أيَّ ساعةٍ أحبَّ من ليلٍ أو نهار" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے بنو عبدِ مناف! کسی ایسے شخص کو اس گھر (بیت اللہ) کے طواف سے اور یہاں نماز پڑھنے سے ہرگز نہ روکنا جو رات یا دن کی جس گھڑی میں بھی طواف یا نماز پڑھنا چاہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيبة، حدثنا أبو خالدٍ الأحمر، عن ابن جُرَيج، عن عمر بن عطاء، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: لا صَرُورة في الإسلام" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں «صروره» (یعنی استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا یا نکاح سے بچ کر رہبانیت اختیار کرنا) کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثّنى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا أبو معاوية محمد بن خازم عن الحسن بن عمرو الفُقَيمي، عن أبي صفوان، عن ابن عباسٍ قال: قال رسول الله ﷺ: "لا صَرُورة في الإسلام".
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں «صروره» (حج کی ادائیگی سے گریز یا ترکِ دنیا) کا کوئی تصور نہیں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔