کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سفر کے وقت رخصت کرنے کا طریقہ۔
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدثنا إسحاق بن أحمد الخَرّاز، حدثنا إسحاق بن سليمان، حدثنا حنظلة بن أبي سفيان، أنه سمع القاسم بن محمد يقول: كنتُ عند ابن عمر، فجاءه رجلٌ، فقال: أردتُ سَفَرًا، فقال عبد الله: انتظرْ حتى أُودِّعَك كما كان رسولَ الله ﷺ يُودِّعُنا: "أَستَودِعُ الله دِينَكَ وأمانتَكَ وخواتيمَ عَملِكَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے سفر کا ارادہ کیا ہے، تو عبداللہ بن عمر نے فرمایا: ”ذرا ٹھہرو تاکہ میں تمہیں اسی طرح رخصت کروں جیسے رسول اللہ ﷺ ہمیں رخصت کرتے وقت (یہ دعا فرما کر الوداع) کیا کرتے تھے: «أَستَودِعُ الله دِينَكَ وأمانتَكَ وخواتيمَ عَملِكَ» ”میں تمہارے دین، تمہاری امانت داری اور تمہارے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔““
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1634
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، رجاله ثقات، إسحاق بن سليمان - وهو الرازي - ثقة من رجال الشيخين، وقد تابع الوليدَ بنَ مسلم في رواية هذا الحديث عن حنظلة عن القاسم عن ابن عمر فيما سيأتي برقم (2506)، وفي ذلك تزول شبهة الوهم التي نسبها أبو زرعة وأبو حاتم للوليد بن مسلم كما ...» [ترقيم الرساله 1634] [ترقيم الشركة 1623]
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا إسماعيل بن حفص بن عُمر (1) بن ميمون، حدثنا يحيى بن اليَمان، عن حمزة الزَّيّات، عن حُمْران بن أعْيَن، عن أبي الطُّفيل، عن أبي سعيد الخُدري قال: حَجَّ النبيُّ ﷺ وأصحابه مُشاةً من المدينة إلى مكة، قال: "اربِطُوا على أوساطِكُم بأُزُرِكم"، ومشى خِلْطَ الهَرْولةِ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ نے مدینہ سے مکہ تک پیدل چل کر حج ادا کیا، آپ ﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا: ”تم اپنی چادروں کو اپنے پیٹ کے درمیان (کمروں پر) مضبوطی سے باندھ لو“، اور آپ ﷺ ایسی چال چلے جو تیز رفتاری اور دوڑنے کے قریب (نسلان) تھی۔
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1635
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف حمران بن أعين
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف حمران بن أعين، ويحيى بن اليمان وهو وإن كان حسن الحديث في الجملة إلا أن في حفظه لِينًا. حمزة الزيات: هو ابن حبيب، وأبو الطفيل: هو عامر بن واثلة.» [ترقيم الرساله 1635] [ترقيم الشركة 1624]
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عبادة، حدثنا ابن جُرَيج، أخبرني جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر قال: شَكَا ناسٌ إلى النبيِّ ﷺ المشيَ، فدعا بهم، فقال: "عليكم بالنَّسَلان"، فنَسَلْنا، فوجدناه أخفَّ علينا (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے پیدل چلنے (کی مشقت) کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے انہیں بلا کر فرمایا: ”تم «نسلان» (تیز قدمی اور ہلکے جھٹکوں کے ساتھ چلنے) کو لازم پکڑو“، چنانچہ ہم نے اسی طرح چلنا شروع کیا تو اسے اپنے لیے (پیدل چلنے کے مقابلے میں) زیادہ ہلکا اور آسان پایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1636
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،ابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز، وجعفر بن محمد: هو ابن علي الصادق.» [ترقيم الرساله 1636] [ترقيم الشركة 1625]