المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ باب: اللہ کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے حق میں بہتر ہو۔
حدیث نمبر: 1637
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرَفي، حدثنا عبد الصمد بن الفَضْل، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، أخبرنا حَيْوَةُ بن شُرَيح، أخبرني شُرَحْبيل بن شَرِيك، عن أبي عبد الرحمن الحُبُليّ، عن عبد الله بن عمرو عن النبي ﷺ قال: "خيرُ الأصحاب عند الله خيرُهم لصاحبِه، وخيرُ الجيران عند الله خيرُهم لجارِه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے حق میں سب سے اچھا ہو، اور اللہ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے سب سے بہتر اور خیر خواہ ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي من أجل شرحبيل بن شريك، فهو صدوق لا بأس به. أبو عبد الرحمن الحبلي: هو عبد الله بن يزيد المعافري.
درجۂ حدیث: شرحبیل بن شریک کی وجہ سے یہ سند قوی ہے، کیونکہ وہ صدوق (سچے) راوی ہیں۔
راوی پر جرح: ابو عبدالرحمن الحبلی سے مراد عبداللہ بن یزید المعافری ہیں۔
وأخرجه أحمد 11/ (6566) عن عبد الله بن يزيد المقرئ بهذا الإسناد. وقرن بحيوة بن شريح عبدَ الله بنَ لهيعة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (11/ 6566) نے عبداللہ بن یزید المقرئ کی سند سے روایت کیا ہے اور حیوہ بن شریح کے ساتھ عبداللہ بن لہیہ کی تائید بھی ذکر کی ہے۔
وسيأتي من طريق عبد الله بن المبارك عن حيوة بن شريح برقم (2521) و (7482)، ويأتي تخريجه من هذه الطريق هناك.
توضیح: یہ آگے عبداللہ بن المبارک کے طریق سے رقم (2521 اور 7482) پر آئے گی اور وہیں اس کی تخریج ذکر کی جائے گی۔
درجۂ حدیث: شرحبیل بن شریک کی وجہ سے یہ سند قوی ہے، کیونکہ وہ صدوق (سچے) راوی ہیں۔
راوی پر جرح: ابو عبدالرحمن الحبلی سے مراد عبداللہ بن یزید المعافری ہیں۔
وأخرجه أحمد 11/ (6566) عن عبد الله بن يزيد المقرئ بهذا الإسناد. وقرن بحيوة بن شريح عبدَ الله بنَ لهيعة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (11/ 6566) نے عبداللہ بن یزید المقرئ کی سند سے روایت کیا ہے اور حیوہ بن شریح کے ساتھ عبداللہ بن لہیہ کی تائید بھی ذکر کی ہے۔
وسيأتي من طريق عبد الله بن المبارك عن حيوة بن شريح برقم (2521) و (7482)، ويأتي تخريجه من هذه الطريق هناك.
توضیح: یہ آگے عبداللہ بن المبارک کے طریق سے رقم (2521 اور 7482) پر آئے گی اور وہیں اس کی تخریج ذکر کی جائے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1637 سے ماخوذ ہے۔