کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو اللہ کا واسطہ دے یا اللہ کی پناہ مانگے اس کے بارے میں حکم کا بیان۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الأحوَص بن جَوَّاب، عن عمّار بن رُزَيق، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عمر قال: قال رسولُ الله ﷺ: "من سألكم بالله فأَعطُوه، ومن استعاذَكُم بالله فأعِيذُوه، ومن دَعاكُم فأجِيبُوه، ومن أَهدَى إليكم فكافِئُوه، فإن لم تَجِدوا ما تُكافئونَه، فادْعُوا له حتى تَرَونَ أن قد كافأْتُموه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين؛ فقد تابع عمَّارَ بن رُزَيق على إقامة هذا الإسناد: أبو عَوَانة وجَرِير بن عبد الحميد وعبد العزيز بن مُسلِم القَسْمَلي عن الأعمش. أما حديث أبي عَوانة
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين؛ فقد تابع عمَّارَ بن رُزَيق على إقامة هذا الإسناد: أبو عَوَانة وجَرِير بن عبد الحميد وعبد العزيز بن مُسلِم القَسْمَلي عن الأعمش. أما حديث أبي عَوانة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم سے اللہ کے واسطے سے مانگے اسے عطا کرو، جو اللہ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، جو تمہیں دعوت دے اسے قبول کرو، اور جو تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے اس کا بدلہ چکاؤ، پھر اگر تمہارے پاس بدلہ دینے کو کچھ نہ ہو تو اس کے لیے (اتنی) دعا کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے؛ عمار بن رزیق کی اس سند کی متابعت ابوعوانہ، جریر بن عبدالحمید اور عبدالعزیز بن مسلم قسملی نے اعمش کے واسطے سے کی ہے۔ یہ تمام اسانید جن کی صحت پر اتفاق ہے، محمد بن ابی عبیدہ کی اس روایت کی وجہ سے معلول (کمزور) قرار نہیں دی جاسکتیں جو انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم تیمی سے اور انہوں نے مجاہد سے نقل کی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے؛ عمار بن رزیق کی اس سند کی متابعت ابوعوانہ، جریر بن عبدالحمید اور عبدالعزیز بن مسلم قسملی نے اعمش کے واسطے سے کی ہے۔ یہ تمام اسانید جن کی صحت پر اتفاق ہے، محمد بن ابی عبیدہ کی اس روایت کی وجہ سے معلول (کمزور) قرار نہیں دی جاسکتیں جو انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم تیمی سے اور انہوں نے مجاہد سے نقل کی ہے۔
حافظ طلحہ بابر
ہمیں اس کی خبر ابوالعباس المحبوبی نے دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن عیسیٰ الطرسوسی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں مسلم بن ابراہیم نے حدیث بیان کی اور انہیں ابوعوانہ نے یہ روایت پہنچائی؛ رہی بات جریر کی حدیث کی تو وہ درج ذیل ہے:
حافظ طلحہ بابر
ہمیں اس کی خبر ابوبکر بن اسحاق نے دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن احمد بن حنبل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں زہیر بن حرب نے حدیث سنائی اور انہیں جریر نے یہ روایت پہنچائی۔
جبکہ عبدالعزیز بن مسلم کی حدیث (کی سند) درج ذیل ہے:
جبکہ عبدالعزیز بن مسلم کی حدیث (کی سند) درج ذیل ہے:
حافظ طلحہ بابر
محمد بن صالح بن ہانئی نے ہمیں یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں سری بن خزیمہ نے حدیث بیان کی، انہیں معلی بن اسد نے اور انہیں عبدالعزیز بن مسلم نے یہ روایت پہنچائی۔
صحت پر متفق علیہ یہ تمام اسانید، محمد بن ابی عبیدہ بن معن کی اپنے والد کے واسطے سے اعمش، ابراہیم تیمی اور مجاہد سے مروی روایت کی وجہ سے معلول (کمزور) قرار نہیں دی جا سکتیں، اور اعمش کے نزدیک اس بارے میں ایک اور سند بھی موجود ہے جو شیخین کی شرط پر صحیح ہے:
صحت پر متفق علیہ یہ تمام اسانید، محمد بن ابی عبیدہ بن معن کی اپنے والد کے واسطے سے اعمش، ابراہیم تیمی اور مجاہد سے مروی روایت کی وجہ سے معلول (کمزور) قرار نہیں دی جا سکتیں، اور اعمش کے نزدیک اس بارے میں ایک اور سند بھی موجود ہے جو شیخین کی شرط پر صحیح ہے:
أخبرَناه عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا الأَسود بن عامر شاذانُ، حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن الأعمش، عن أبي حازم، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ: "مَن سَألكم بالله فأَعطُوه، ومن استعاذَكُم بالله فأعِيذُوه، ومن دعاكم فأجِيبُوه" (1). هذا إسناد صحيح، فقد صحَّ عند الأعمش الإسنادان جميعًا على شرط الشيخين، ونحن على أصلنا في قَبول الزِّيادات من الثقات في الأسانيد والمتون.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم سے اللہ کے واسطے سے سوال کرے اسے عطا کرو، جو اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو تمہیں دعوت دے اس کی دعوت قبول کرو۔“
یہ سند صحیح ہے، امام اعمش کے نزدیک یہ دونوں اسانید شیخین کی شرط پر صحیح ثابت ہیں اور ہمارا اصولی قاعدہ یہی ہے کہ ہم اسناد و متون میں ثقہ راویوں کی طرف سے کی گئی زیادات کو قبول کرتے ہیں۔
یہ سند صحیح ہے، امام اعمش کے نزدیک یہ دونوں اسانید شیخین کی شرط پر صحیح ثابت ہیں اور ہمارا اصولی قاعدہ یہی ہے کہ ہم اسناد و متون میں ثقہ راویوں کی طرف سے کی گئی زیادات کو قبول کرتے ہیں۔