کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو مال داری کے باوجود دیا جائے۔
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمَّاد، عن محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عُمر بن قتادة، عن محمود بن لبيد، عن جابر بن عبد الله الأنصاري قال: كنا عند رسول الله ﷺ إذ جاء رجل بمثل بَيضةٍ من ذهب، فقال: يا رسول الله، أصبتُ هذه من مَعدِنٍ، فخُذْها فهي صدقةٌ، ما أملِكُ غيرَها، فأعرَضَ عنه رسول الله ﷺ، ثم أتاه من قِبَل رُكْنِه الأيمن، فقال مثلَ ذلك، فأعرَضَ عنه، ثم أتاه من رُكنِه الأيسر، فأعرَضَ عنه رسول الله ﷺ، ثم أتاه من خَلْفِه، فأخذها رسولُ الله ﷺ فحَذَفَه بها، فلو أصابته لأوجَعَتْه ولَعَقَرتْه، فقال رسول الله ﷺ: "يأتي أحدُكم بما يَملِكُ فيقول: هذه صدقةٌ، ثم يقعُدُ يَستكِفُّ الناسَ، خيرُ الصَّدقةِ ما كان عن ظَهْرِ غِنًى" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک شخص سونے کے انڈے جیسی کوئی چیز لے کر آیا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! یہ مجھے ایک کان سے ملی ہے، اسے قبول فرمائیے، یہ صدقہ ہے اور میرے پاس اس کے سوا کوئی مال نہیں ہے“، رسول اللہ ﷺ نے اس سے اعراض فرمایا، پھر وہ آپ ﷺ کے دائیں جانب سے آیا اور وہی بات کہی، آپ ﷺ نے پھر اعراض فرمایا، پھر وہ بائیں جانب سے آیا تو آپ ﷺ نے پھر رخ موڑ لیا، پھر وہ پیچھے سے آیا تو رسول اللہ ﷺ نے وہ (سونا) اس سے لے لیا اور اسے اس کی طرف (ایسے انداز میں) اچھالا کہ اگر وہ اسے لگ جاتا تو اسے تکلیف پہنچتی یا وہ زخمی ہو جاتا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنا سارا مال لے کر آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ صدقہ ہے، پھر (خود محتاج ہو کر) بیٹھ جاتا ہے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضرورت پوری ہونے کے بعد خوشحالی میں سے دیا جائے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العدل، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، عن ابن عَجْلان، عن عياض بن عبد الله بن سعد، سمع أبا سعيدٍ الخُدْريَّ يقول: دخلَ رجلٌ المسجد، فأمر النبيُّ ﷺ أن يَطْرَحُوا له ثيابًا، فَطَرَحُوا له، فأمر فيها بثوبين، ثم حثَّ على الصدقة فجاء فَطَرَح الثوبين، فصاح به وقال: "خُذْ ثَوبَيكَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی کریم ﷺ نے (اس کی خستہ حالی دیکھ کر صحابہ کو) حکم دیا کہ اس کے لیے کپڑے ڈالیں، چنانچہ لوگوں نے کپڑے ڈالے تو آپ ﷺ نے اس کے لیے ان میں سے دو کپڑوں کا حکم فرمایا، پھر آپ ﷺ نے صدقہ کی ترغیب دی تو اس شخص نے وہی دو کپڑے (صدقے کے لیے) پیش کر دیے، اس پر آپ ﷺ نے اسے پکارا اور فرمایا: ”اپنے دو کپڑے (واپس) لے لو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔