کتب حدیث › مستدرکِ حاکم › ابواب › باب: ناجائز محصول (مکس) لینے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
❮
❯
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن عبد الرحمن بن شُمَاسة، عن عُقْبة بن عامر قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "لا يَدخُلُ صاحبُ مَكْسٍ الجنةَ". قال يزيد بن هارون: يعني العَشَّار (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ناحق ٹیکس وصول کرنے والا (صاحبِ مکس) جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ یزید بن ہارون کہتے ہیں کہ اس سے مراد ظالم عشار (چنگی وصول کرنے والا) ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب الزكاة / حدیث: 1485
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، وأخرجه أحمد 28/ (17354) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 1485] [ترقيم الشركة 1474]
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا عمرو بن خالد الحَرَّاني، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن زيد (1) بن أبي أُنيسة، عن القاسم بن عوف الشَّيباني، عن علي بن الحسين، قال: حدثتنا أمُّ سلمة: أنَّ النبي ﷺ بينما هو في بيتها، وعنده رجالٌ من أصحابه يَتحدَّثون، إذ جاء رجلٌ فقال: يا رسول الله، كم صدقةُ كذا وكذا من التمر؟ قال رسول الله ﷺ: "كذا وكذا" فقال الرجل: إنَّ فلانًا تعدّى عليَّ فأخذ منِّي كذا وكذا، فازداد صاعًا، فقال رسول الله ﷺ: "فكيف إذا سَعَى عليكم مَن يَتعدَّى عليكم أشدَّ من هذا التّعدِّي؟ " فخاض الناسُ وبَهَرَ الحديثُ، حتى قال رجلٌ منهم: يا رسولَ الله، إن كان رجلًا غائبًا عنك في إبلِه وماشيتِه وزَرْعِه، فأدَّى زكاةَ مالِه فتُعُدِّيَ عليه الحقَّ، فكيف يَصنَعُ وهو غائب؟ فقال رسول الله ﷺ: "مَن أدّى زكاةَ مالِه طيِّبَ النفسِ بها، يريدُ به وَجْهَ الله والدارَ الآخرة، لم يُغيِّب شيئًا من ماله، وأقام الصلاةَ، وأدّى الزكاةَ، فتُعُدِّي عليه الحقِّ، فأَخَذ سلاحَه فقاتَلَ فقُتل، فهو شهيد" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ان کے گھر میں تشریف فرما تھے اور آپ ﷺ کے پاس آپ کے کچھ صحابہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اتنی اتنی کھجور کی زکوٰۃ کتنی ہے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اتنی اتنی۔“ اس شخص نے کہا: ”فلاں نے مجھ پر زیادتی کی اور مجھ سے اتنا اتنا لے لیا“، یعنی ایک صاع زیادہ لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم پر ایسے لوگ (زکوٰۃ وصول کرنے) آئیں گے جو اس سے بھی زیادہ سخت زیادتی کریں گے؟“ لوگ اس بارے میں باتیں کرنے لگے اور یہ بات ان پر بھاری گزری، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص اپنے اونٹوں، مویشیوں اور کھیتی کے ساتھ آپ سے دور ہو اور وہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے پھر اس پر زیادتی کی جائے تو وہ غائب ہوتے ہوئے کیا کرے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی رضا اور آخرت کے گھر کے لیے خوش دلی سے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی اور اپنا کوئی مال نہیں چھپایا، نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی، پھر (ناحق) اس کے حق پر زیادتی کی گئی اور اس نے اپنا اسلحہ اٹھا کر اپنے حق کی خاطر جنگ کی اور مارا گیا، تو وہ شہید ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب الزكاة / حدیث: 1486
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 1486] [ترقيم الشركة 1475]
أخبرنا أبو إسحاق بن فراس الفقيه بمكة، حدثنا بكر بن سَهْل الدِّمْياطي، حدثنا شعيب بن يحيى التُّجِيبي، حدثنا الليث بن سعد، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن أبيه: أنه لمَّا كان عامُ الرَّمادة، وأجْدَبَتِ الأرض، كَتَبَ عمر بنُ الخطاب إلى عمرو بن العاص: مِن عبد الله عمرَ أميرِ المؤمنين إلى العاصي ابن العاص، لعَمْري (2) ما تُبالي إذا سَمِنْتَ ومَن قِبَلَكَ أن أَعْجَفَ ومَن قِبَلي، ويا غَوْثاه، فكتب عمرو: السلام، أما بعدُ: لبَّيك لبَّيك، أتتك عِيرٌ أولُها عندك وآخرُها عندي، مع أني أرجو أن أجد سبيلًا أن أحمِلَ في البحر، فلمَّا قَدِمَ أولُ عِيرٍ دعا الزُّبيرَ فقال: اخرُجْ في أول هذه العِير، فاستقبِلْ بها نجدًا (3)، فاحمِلْ إليَّ كلَّ أهل بيتٍ قَدَرتَ أن تَحمِلَهم إليَّ، ومَن لم تستطع حَمْلَه فمُرْ لكلِّ أهل بيتٍ ببعيرٍ بما عليه، ومُرْهُم فليَلْبَسوا اللِّباسَ كِساءَيْنِ (4)، وليَنحَروا البعيرَ فيَجْمُلوا شَحْمَه، وليُقدِّدوا لحمَه، وليَحتَذُوا جِلدَه، ثم ليأخُذُوا كُبَّةً من قَدِيدٍ وكُبَّةً من شَحْمٍ وحَفْنَةً من دقيق فيَطبُخوا (1)، وليأكُلوا حتى يأتيهم الله برِزْق، فأَبى الزُّبير أن يَخرُج، فقال: أما والله لا تجدُ مثلَها حتى تخرج من الدنيا، ثم دعا آخَرَ أظنُّه طلحة، فأبى، ثم دعا أبا عُبيدةَ بن الجرَّاح، فخَرَج في ذلك، فلمَّا رَجَعَ بَعَثَ إليه بألف دينار، فقال أبو عبيدة: إني لم أعمَلْ لك يا ابنَ الخطاب، إنما عَمِلتُ لله، ولستُ آخُذُ في ذلك شيئًا، فقال عمر: قد أعطانا رسولُ الله ﷺ في أشياءَ بَعَثَنا فيها فكَرِهْنا، فأَبى ذلك علينا رسولُ الله ﷺ، فاقبَلْها أيها الرجل، فاستَعِنْ بها على دُنياكَ، فقَبِلَها أبو عبيدةَ بن الجرَّاح (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
اسلم بیان کرتے ہیں کہ قحط کے سال (عام الرمادہ) جب زمین خشک سالی کا شکار ہو گئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مصر کے گورنر عمرو بن العاص کو خط لکھا: ”اللہ کے بندے عمر امیر المؤمنین کی طرف سے عاص بن عاص کے نام: میری عمر کی قسم! تمہیں اس کی کوئی پروا نہیں کہ تم اور تمہارے ساتھی موٹے ہو جاؤ اور میں اور میرے ساتھی بھوک سے دبلے ہو جائیں، ہائے فریاد!“ عمرو بن العاص نے جواب لکھا: ”سلام کے بعد: لبیک، لبیک! آپ کی طرف ایسا قافلہ آ رہا ہے جس کا پہلا اونٹ آپ کے پاس ہوگا اور آخری میرے پاس، نیز مجھے امید ہے کہ میں سمندر کے راستے بھی (غلہ) بھیجنے کی کوئی صورت نکال لوں گا۔“ جب پہلا قافلہ پہنچا تو عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا: ”اس قافلے کے آغاز کے ساتھ نکلو اور اسے لے کر نجد کی طرف جاؤ، جتنے گھرانوں کو میرے پاس لا سکو لے آؤ، اور جنہیں نہ لا سکو ان میں سے ہر گھرانے کو ایک اونٹ اس کے سامان سمیت دینے کا حکم دو، اور انہیں کہو کہ دو چادریں پہنیں، اونٹ کو ذبح کر کے اس کی چربی پگھلا لیں، اس کا گوشت سکھا لیں اور اس کی کھال سے جوتے بنا لیں، پھر سوکھے گوشت کی ایک مٹھی، چربی کی ایک مٹھی اور آٹے کی ایک لپ لے کر پکائیں اور کھاتے رہیں یہاں تک کہ اللہ انہیں رزق عطا فرما دے۔“ زبیر رضی اللہ عنہ نے جانے سے انکار کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! دنیا سے رخصت ہونے تک تمہیں ایسا (نیکی کا) موقع نہیں ملے گا۔“ پھر ایک اور شخص کو بلایا، میرا خیال ہے وہ طلحہ تھے، انہوں نے بھی انکار کیا، پھر سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلایا تو وہ اس کام کے لیے نکل گئے۔ جب وہ واپس آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک ہزار دینار بھیجے۔ ابو عبیدہ نے کہا: ”اے ابن خطاب! میں نے آپ کے لیے کام نہیں کیا، میں نے تو صرف اللہ کے لیے کام کیا ہے، اور میں اس پر کچھ نہیں لوں گا۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے بھی ہمیں کچھ کاموں پر بھیج کر عطا فرمایا تھا جو ہمیں ناگوار تھا مگر رسول اللہ ﷺ نے ہمارا انکار قبول نہ فرمایا، پس اے شخص! تم اسے قبول کرو اور اپنی دنیاوی ضروریات میں اس سے مدد لو“، چنانچہ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اسے قبول کر لیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب الزكاة / حدیث: 1487
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،إن شاء الله، هشام بن سعد وإن كان مختلفًا فيه، فقد جعله أبو داود السجستاني من أثبت الناس في زيد بن أسلم، وبكر بن سهل الدمياطي فيه ضعف، لكنه قد توبع. وقد قوى هذا الإسناد الذهبي في "مختصر سنن البيهقي". أسلم والد زيد: هو القرشي العدوي المدني، مولى عمر بن الخطاب.» [ترقيم الرساله 1487] [ترقيم الشركة 1476]
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك ببغداد، حدثنا أحمد بن حيَّان بن مُلاعِب، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن حسين المُعلِّم، عن عبد الله بن بُريدةَ، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال: "من استَعمَلْناه على عَمَلٍ فرَزَقْناه رِزقًا، فما أخَذَ بعد ذلك فهو غُلول" (3).
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم جس شخص کو کسی کام پر مامور کریں اور اسے اس کی اجرت (رزق) دے دیں، تو اس کے بعد وہ جو کچھ بھی (ناحق) لے گا وہ 'غلول' (خیانت) ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب الزكاة / حدیث: 1488
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد، وحسين المعلم: هو ابن ذكوان، وبريدة: هو ابن الحُصيب الأسلمي.» [ترقيم الرساله 1488] [ترقيم الشركة 1477]
أخبرني أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا الحسين بن إدريسَ الأنصاريُّ، حدثنا محمد بن عبد الله بن عمّار المَوْصِلي، حدثنا المُعافَى بن عِمْران، عن الأوزاعي، حدثنا الحارث بن يزيد، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن المُستورِد بن شدَّاد قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول: "من كان لنا عاملًا فليكتسِبْ زوجةً، وإن لم يكن له خادمٌ فليكتسِبْ خادمًا، ومن لم يكن له مَسكنٌ فليكتسِبْ مسكنًا". قال (1): وأُخبِرتُ أنَّ النبي ﷺ قال: "مَن اتخذ غيرَ ذلك فهو غالٌّ أو سارق" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”جس نے ہماری طرف سے سرکاری ذمہ داری سنبھالی، اگر اس کی بیوی نہ ہو تو وہ نکاح کر لے، اگر خادم نہ ہو تو خادم رکھ لے، اور اگر گھر نہ ہو تو گھر حاصل کر لے۔“ راوی کہتے ہیں: اور مجھے بتایا گیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اس کے علاوہ (ناحق) کچھ لیا تو وہ خیانت کرنے والا یا چور ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب الزكاة / حدیث: 1489
درجۂ حدیث محدثین: إسناد الشطر الأول منه صحيح
تخریج حدیث «إسناد الشطر الأول منه صحيح، غير أنَّ تسمية عبد الرحمن بن جبير بن نفير هنا خطأ، صوابه: عبد الرحمن بن جبير، دون ذكر "ابن نفير"، لأنَّ الحارث بن يزيد مصريٌّ، وهو يروي عن عبد الرحمن بن جبير المصري، وليس له رواية عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير وهو شامي، ...» [ترقيم الرساله 1489] [ترقيم الشركة 1478]