❮
❯
حدیث نمبر: 1486
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا عمرو بن خالد الحَرَّاني، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن زيد (1) بن أبي أُنيسة، عن القاسم بن عوف الشَّيباني، عن علي بن الحسين، قال: حدثتنا أمُّ سلمة: أنَّ النبي ﷺ بينما هو في بيتها، وعنده رجالٌ من أصحابه يَتحدَّثون، إذ جاء رجلٌ فقال: يا رسول الله، كم صدقةُ كذا وكذا من التمر؟ قال رسول الله ﷺ: "كذا وكذا" فقال الرجل: إنَّ فلانًا تعدّى عليَّ فأخذ منِّي كذا وكذا، فازداد صاعًا، فقال رسول الله ﷺ: "فكيف إذا سَعَى عليكم مَن يَتعدَّى عليكم أشدَّ من هذا التّعدِّي؟ " فخاض الناسُ وبَهَرَ الحديثُ، حتى قال رجلٌ منهم: يا رسولَ الله، إن كان رجلًا غائبًا عنك في إبلِه وماشيتِه وزَرْعِه، فأدَّى زكاةَ مالِه فتُعُدِّيَ عليه الحقَّ، فكيف يَصنَعُ وهو غائب؟ فقال رسول الله ﷺ: "مَن أدّى زكاةَ مالِه طيِّبَ النفسِ بها، يريدُ به وَجْهَ الله والدارَ الآخرة، لم يُغيِّب شيئًا من ماله، وأقام الصلاةَ، وأدّى الزكاةَ، فتُعُدِّي عليه الحقِّ، فأَخَذ سلاحَه فقاتَلَ فقُتل، فهو شهيد" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ان کے گھر میں تشریف فرما تھے اور آپ ﷺ کے پاس آپ کے کچھ صحابہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اتنی اتنی کھجور کی زکوٰۃ کتنی ہے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اتنی اتنی۔“ اس شخص نے کہا: ”فلاں نے مجھ پر زیادتی کی اور مجھ سے اتنا اتنا لے لیا“، یعنی ایک صاع زیادہ لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم پر ایسے لوگ (زکوٰۃ وصول کرنے) آئیں گے جو اس سے بھی زیادہ سخت زیادتی کریں گے؟“ لوگ اس بارے میں باتیں کرنے لگے اور یہ بات ان پر بھاری گزری، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص اپنے اونٹوں، مویشیوں اور کھیتی کے ساتھ آپ سے دور ہو اور وہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے پھر اس پر زیادتی کی جائے تو وہ غائب ہوتے ہوئے کیا کرے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی رضا اور آخرت کے گھر کے لیے خوش دلی سے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی اور اپنا کوئی مال نہیں چھپایا، نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی، پھر (ناحق) اس کے حق پر زیادتی کی گئی اور اس نے اپنا اسلحہ اٹھا کر اپنے حق کی خاطر جنگ کی اور مارا گیا، تو وہ شہید ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب الزكاة / حدیث: 1486
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 1486] [ترقيم الشركة 1475]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: يزيد.
توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام غلطی سے "یزید" ہو گیا ہے۔
(1) إسناده حسن إن شاء الله من أجل القاسم بن عوف الشيباني. علي بن الحسين: هو ابن علي بن أبي طالب زينُ العابدين.
درجۂ حدیث: انشاء اللہ اس کی سند حسن ہے (قاسم بن عوف الشیبانی کی وجہ سے)۔
راوی پر جرح: علی بن الحسین سے مراد امام زین العابدین ہیں۔
وأخرجه أحمد 44/ (26574)، وابن حبان (3193) من طريقين عن عبيد الله بن عمرو الرقي، بهذا الإسناد. رواية أحمد مختصرة.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (44/ 26574) اور ابن حبان (3193) نے عبید اللہ بن عمرو الرقی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
قال ابن حبان: معنى هذا الخبر: إذا تُعدِّي على المرء في أخذ صدقته، أو ما يشبه هذه الحالة، وكان معه من المسلمين الذين يواطئونه على ذلك، وفيهم كفاية، بعد أن لا يكون قصدهم الدنيا، ولا شيئًا منها، دون إلقاء المرء نفسه إلى التهلكة، إذ المصطفى ﷺ قال لأبي ذر: "اسمع وأطع ولو عبدًا حبشيًا مجدَّعًا"، وقال ﷺ: "من حمل السلاح فليس منا".
مجموعی اصول / قاعدہ: ابن حبان کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی پر زکوٰۃ کی وصولی میں ظلم کیا جائے تو وہ (دفاع کر سکتا ہے) بشرطیکہ مقصد دنیا نہ ہو اور خود کو ہلاکت میں ڈالنا مقصود نہ ہو، کیونکہ نبی ﷺ نے حاکم کی اطاعت کا بھی حکم دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1486 سے ماخوذ ہے۔