حدیث نمبر: 1487
أخبرنا أبو إسحاق بن فراس الفقيه بمكة، حدثنا بكر بن سَهْل الدِّمْياطي، حدثنا شعيب بن يحيى التُّجِيبي، حدثنا الليث بن سعد، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن أبيه: أنه لمَّا كان عامُ الرَّمادة، وأجْدَبَتِ الأرض، كَتَبَ عمر بنُ الخطاب إلى عمرو بن العاص: مِن عبد الله عمرَ أميرِ المؤمنين إلى العاصي ابن العاص، لعَمْري (2) ما تُبالي إذا سَمِنْتَ ومَن قِبَلَكَ أن أَعْجَفَ ومَن قِبَلي، ويا غَوْثاه، فكتب عمرو: السلام، أما بعدُ: لبَّيك لبَّيك، أتتك عِيرٌ أولُها عندك وآخرُها عندي، مع أني أرجو أن أجد سبيلًا أن أحمِلَ في البحر، فلمَّا قَدِمَ أولُ عِيرٍ دعا الزُّبيرَ فقال: اخرُجْ في أول هذه العِير، فاستقبِلْ بها نجدًا (3)، فاحمِلْ إليَّ كلَّ أهل بيتٍ قَدَرتَ أن تَحمِلَهم إليَّ، ومَن لم تستطع حَمْلَه فمُرْ لكلِّ أهل بيتٍ ببعيرٍ بما عليه، ومُرْهُم فليَلْبَسوا اللِّباسَ كِساءَيْنِ (4)، وليَنحَروا البعيرَ فيَجْمُلوا شَحْمَه، وليُقدِّدوا لحمَه، وليَحتَذُوا جِلدَه، ثم ليأخُذُوا كُبَّةً من قَدِيدٍ وكُبَّةً من شَحْمٍ وحَفْنَةً من دقيق فيَطبُخوا (1)، وليأكُلوا حتى يأتيهم الله برِزْق، فأَبى الزُّبير أن يَخرُج، فقال: أما والله لا تجدُ مثلَها حتى تخرج من الدنيا، ثم دعا آخَرَ أظنُّه طلحة، فأبى، ثم دعا أبا عُبيدةَ بن الجرَّاح، فخَرَج في ذلك، فلمَّا رَجَعَ بَعَثَ إليه بألف دينار، فقال أبو عبيدة: إني لم أعمَلْ لك يا ابنَ الخطاب، إنما عَمِلتُ لله، ولستُ آخُذُ في ذلك شيئًا، فقال عمر: قد أعطانا رسولُ الله ﷺ في أشياءَ بَعَثَنا فيها فكَرِهْنا، فأَبى ذلك علينا رسولُ الله ﷺ، فاقبَلْها أيها الرجل، فاستَعِنْ بها على دُنياكَ، فقَبِلَها أبو عبيدةَ بن الجرَّاح (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

اسلم بیان کرتے ہیں کہ قحط کے سال (عام الرمادہ) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مصر کے گورنر عمرو بن العاص کو خط لکھا کہ ”تمہیں یہ کیسے گوارا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھی کھا پی کر موٹے ہو جائیں اور میں اور میرے ساتھی بھوک سے دبلے ہو جائیں؟ ہائے افسوس!“ عمرو بن العاص نے جواب دیا: ”لبیک! میں ایسا غلہ بھیج رہا ہوں جس کا پہلا اونٹ آپ کے پاس ہوگا اور آخری میرے پاس۔“ پھر جب امداد پہنچی تو عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح کو اس کی تقسیم پر مامور کیا اور بعد میں انہیں ایک ہزار دینار دیے۔ ابو عبیدہ نے لینے سے انکار کیا کہ میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے بھی ہمیں کچھ کاموں پر عطا فرمایا تھا جو ہمیں ناگوار تھا مگر آپ ﷺ نے ہمیں لینے کا حکم دیا، پس تم اسے قبول کرو اور اپنی دنیاوی ضروریات میں مدد لو“، چنانچہ انہوں نے اسے قبول کر لیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1487
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،إن شاء الله، هشام بن سعد وإن كان مختلفًا فيه، فقد جعله أبو داود السجستاني من أثبت الناس في زيد بن أسلم، وبكر بن سهل الدمياطي فيه ضعف، لكنه قد توبع. وقد قوى هذا الإسناد الذهبي في "مختصر سنن البيهقي". أسلم والد زيد: هو القرشي العدوي المدني، مولى عمر بن الخطاب.» [ترقيم الرساله 1487] [ترقيم الشركة 1476]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرف في (ز) و (ص) و (ع) إلى: العمري، وفي هامش (ز): "لعلَّها أخبرني العمري"، ووقع في (ب) و"تلخيص الذهبي": أخبرني العمري، وكله خطأ، والتصويب من "إتحاف المهرة" 2/ 87 و"سنن البيهقي" في روايته هذا الحديث عن المصنِّف نفسه، ومن "صحيح ابن خزيمة".
توضیح: نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں نام "العمری" ہو گیا ہے جو کہ غلط ہے، درست نام ابن خزیمہ اور بیہقی کے مطابق ہے۔
(3) تحرف في نسخنا الخطية إلى: غدًا، والتصويب من مصدري التخريج.
توضیح: قلمی نسخوں میں لفظ "غداً" (کل) ہو گیا ہے، درستگی تخریج کے مصادر سے کی گئی ہے۔
(4) تحرف في (ز) و (ب) إلى: فليلبسوا الناس كماتين، وسقطت لفظة "كساءين" من (ص) و (ع)

ووقع في "السنن الكبرى" للبيهقي في روايته عن المصنف: "فليلبسوا كساءين" بإسقاط لفظة اللباس.

سندی اختلاف: نسخہ (ز) اور (ب) میں عبارت میں غلطی ہوئی ہے، اور لفظ "کساءین" (دو چادریں) بعض نسخوں سے ساقط ہو گیا تھا۔
(1) في (ص) و (ع): فيطحنوا، والمثبت من (ز).
توضیح: نسخہ (ص) اور (ع) میں "فیطحنوا" ہے جبکہ نسخہ (ز) والا متن ثابت شدہ ہے۔
(2) إسناده حسن إن شاء الله، هشام بن سعد وإن كان مختلفًا فيه، فقد جعله أبو داود السجستاني من أثبت الناس في زيد بن أسلم، وبكر بن سهل الدمياطي فيه ضعف، لكنه قد توبع. وقد قوى هذا الإسناد الذهبي في "مختصر سنن البيهقي". أسلم والد زيد: هو القرشي العدوي المدني، مولى عمر بن الخطاب.
درجۂ حدیث: انشاء اللہ اس کی سند حسن ہے، ہشام بن سعد اگرچہ مختلف فیہ ہیں لیکن امام ابو داود نے انہیں زید بن اسلم کی روایات میں سب سے زیادہ پختہ قرار دیا ہے۔
راوی پر جرح: اسلم، زید کے والد، حضرت عمرؓ کے آزاد کردہ غلام تھے۔
وأخرجه البيهقي 6/ 355 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (6/ 355) نے ابو عبداللہ الحاکم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2367) عن أبي زهير عبد المجيد بن إبراهيم المصري، عن شعيب بن يحيى التجيبي، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2367) نے شعیب بن یحییٰ التجیبی کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي 6/ 354 عن عبد الله بن صالح، عن الليث بن سعد، به.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (6/ 354) نے لیث بن سعد کے طریق سے روایت کیا ہے۔
يَجمُلوا: يُذيبوا. يقدِّدوا لحمه: يملّحوه ويجفّفوه. والكُبَّة: الشيء المجتمع من الطعام وغيره.
اہم نکتہ: "یَجمُلوا" کا معنی پگھلانا ہے، "یقدِّدوا" گوشت کو نمک لگا کر خشک کرنا ہے، اور "کُبَّة" کھانے یا کسی بھی چیز کے مجموعے (ڈھیر) کو کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1487 سے ماخوذ ہے۔