❮
❯
حدیث نمبر: 1488
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك ببغداد، حدثنا أحمد بن حيَّان بن مُلاعِب، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن حسين المُعلِّم، عن عبد الله بن بُريدةَ، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال: "من استَعمَلْناه على عَمَلٍ فرَزَقْناه رِزقًا، فما أخَذَ بعد ذلك فهو غُلول" (3).
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم جس شخص کو کسی کام پر مامور کریں اور اسے اس کی اجرت (رزق) دے دیں، تو اس کے بعد وہ جو کچھ بھی (ناحق) لے گا وہ 'غلول' (خیانت) ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب الزكاة / حدیث: 1488
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد، وحسين المعلم: هو ابن ذكوان، وبريدة: هو ابن الحُصيب الأسلمي.» [ترقيم الرساله 1488] [ترقيم الشركة 1477]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد، وحسين المعلم: هو ابن ذكوان، وبريدة: هو ابن الحُصيب الأسلمي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
راوی پر جرح: ابو عاصم ضحاک بن مخلد ہیں، حسین المعلم ابن ذکوان ہیں، اور بریدہ سے مراد بریدہ بن الحصیب الاسلمی (صحابی) ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2943) عن أبي طالب زيد بن أخزم، عن أبي عاصم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (2943) نے زید بن اخزم عن ابی عاصم کی سند سے روایت کیا ہے۔
والغلول: الخيانة في أموال الغنائم وغيرها.
اہم نکتہ: "الغلول": مالِ غنیمت یا سرکاری اموال میں خیانت کرنے کو کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1488 سے ماخوذ ہے۔