کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: میت اپنے دفن کرنے والوں کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا محمد بن عمرو بن عَلْقَمة، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرةَ، عن النبي ﷺ قال: "إِنَّ المَيِّتَ يَسمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِم إِذا وَلَّوْا مُدبِرِين، فإِن كان مؤمنًا كانت الصلاةُ عند رأسِه، وكان الصَّومُ عن يَمينِه، وكانت الزكاةُ عن يَسارِه، وكان فعلُ الخيرات من الصَّدقة والصَّلاة والصِّلة والمعروفِ والإحسانِ إلى الناس عند رِجلَيه، فيُؤتَى من قِبَلِ رأسِه، فتقول الصلاة: ما قِبَلي مَدخَلٌ، ويُؤتَى مِن عن يمينِه، فيقول الصوم: ما قِبلَي مَدخَل، ويُؤتَى مِن عن يساره، فتقول الزكاة: ما قِبَلي مَدخَل، ويُؤتَى مِن قبل رِجلَيه، فيقول فِعْلُ الخيرات من الصَّدقة والمعروف والصِّلة والإحسانِ إلى الناس: ما قِبَلي مَدخَل. فيقالُ له: اقعُدْ، فيَقعُد، وتُمثَّلُ له الشمسُ وقد دَنَتْ للغُروب، فيقال له: ما تقولُ في هذا الرَّجل الذي كان فيكم وما تَشهدُ به؟ فيقول: دَعُوني أُصلِّي، فيقولون: إنك ستَفعَل، ولكن أخبِرنا عمَّا نسألُك عنه، قال: وعمَّ تسأَلوني؟ فيقولون: أخبِرنا عمَّا نَسألُك عنه، فيقول: دَعُوني أُصلِّي، فيقولون: إنك ستَفعَل، ولكن أخبِرنا عمَّا نَسألُك عنه، قال: وعمَّ تسألوني؟ فيقولون: أخبِرنا ما تقولُ في هذا الرَّجل الذي كان فيكم، وما تَشهدُ به عليه؟ فيقول: أمحمدًا؟ أشهدُ أنه عبدُ الله، وأنه جاء بالحقِّ من عند الله، فيقالُ له: على ذلك حَيِيتَ، وعلى ذلك مِتَّ، وعلى ذلك تُبعَثُ إن شاء الله، ثم يُفتَح له بابٌ من قِبَل النار، فيُقال له: انظُرْ إلى منزلِكَ وإلى ما أعَدَّ الله لكَ لو عَصَيْتَ، فيزدادُ غِبْطةً وسرورًا، ثم يُفتَحُ له بابٌ من قِبَل الجنة، فيقال له: انظُرْ إلى منزلِكَ، وإلى ما أعَدَّ الله لك، فيزدادُ غِبْطةً وسرورًا، وذلك قولُ الله ﵎: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ﴾ [إبراهيم: 27] ". قال: وقال أبو الحَكَم، عن أبي هريرة (1): "فيُقالُ: له ارقُدْ رِقْدةَ العَروس الذي لا يُوقِظُه إلا أَعزُّ أهلِه إليه، أو أَحبُّ أهلِه إليه". ثم رَجَعَ إلى حديث أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، قال: "وإن كان كافرًا أُتِي مِن قِبَل رأسِه، فلا يُوجدُ شيءٌ، ويُؤتَى عن يَمينِه، فلا يُوجدُ شيءٌ، ثم يُؤتَى عن يَسارِه، فلا يُوجدُ شيءٌ، ثم يُؤتَى مِن قِبل رِجلَيه، فلا يُوجدُ شيءٌ، فيقالُ له: اقعُدْ، فيَقعُدُ خائفًا مَرعوبًا، فيقال له: ما تقول في هذا الرَّجل الذي كان فيكم، وماذا تَشهدُ به عليه؟ فيقول: أَيُّ رجل؟ فيقولون: الرَّجل الذي كان فيكم، قال: فلا يَهتدِي له، قال: فيقولون: محمدٌ، فيقول: سمعتُ الناسَ قالوا فقلتُ كما قالوا، فيقولون: على ذلك حَيِيتَ، وعلى ذلك مِتَّ، وعلى ذلك تُبعَثُ إن شاء الله، ثم يُفتَح له بابٌ من قِبَل الجنة، فيقال له: انظُرْ إلى مَنزِلِك، وإلى ما أعدَّ الله لك لو كنتَ أطعتَه، فيزدادُ حسرةً وثُبورًا، قال: ثم يُضيَّقُ عليه قبرُه حتى تختلفَ أضلاعُه، قال: وذلك قولُه ﵎: ﴿فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾ [طه: 124] " (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک میت ان کے جوتوں کی چاپ سنتی ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر واپس جا رہے ہوتے ہیں۔ پھر اگر وہ مومن ہو تو نماز اس کے سر کے پاس، روزہ اس کے دائیں جانب، زکوٰۃ اس کے بائیں جانب اور خیرات، نماز، صلہ رحمی، نیکی اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک جیسے نیک اعمال اس کے قدموں کے پاس ہوتے ہیں۔ جب اس کے سر کی جانب سے فرشتے آتے ہیں تو نماز کہتی ہے: میری طرف سے داخلے کا راستہ نہیں ہے، پھر اس کے دائیں جانب سے آتے ہیں تو روزہ کہتا ہے: میری طرف سے داخلے کا راستہ نہیں ہے، پھر بائیں جانب سے آتے ہیں تو زکوٰۃ کہتی ہے: میری طرف سے داخلے کا راستہ نہیں ہے، پھر قدموں کی طرف سے آتے ہیں تو نیک اعمال کہتے ہیں: میری طرف سے داخلے کا راستہ نہیں ہے۔ پھر اسے کہا جاتا ہے: بیٹھ جاؤ، تو وہ بیٹھ جاتا ہے، اس کے سامنے سورج کو اس طرح تمثیل دی جاتی ہے جیسے وہ غروب ہونے کے قریب ہو۔ اسے کہا جاتا ہے: تمہارا اس آدمی (محمد ﷺ) کے بارے میں کیا خیال ہے جو تم میں مبعوث ہوئے تھے اور تم ان کے بارے میں کیا گواہی دیتے ہو؟ وہ کہتا ہے: مجھے چھوڑ دو کہ میں نماز پڑھ لوں۔ وہ کہتے ہیں: تم عنقریب پڑھ لو گے لیکن ہمیں اس کے بارے میں بتاؤ جس کے متعلق ہم سوال کر رہے ہیں۔ وہ پوچھتا ہے: تم کس بارے میں سوال کر رہے ہو؟ وہ کہتے ہیں: ہمیں اس شخص کے بارے میں بتاؤ جو تم میں تھے، تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو اور کیا گواہی دیتے ہو؟ وہ کہتا ہے: کیا محمد (ﷺ) کے بارے میں؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور وہ اللہ کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں۔ اسے کہا جاتا ہے: اسی پر تم زندہ رہے، اسی پر تمہیں موت آئی اور اسی پر تم ان شاء اللہ دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ پھر اس کے لیے جہنم کی طرف سے ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے: اپنے اس ٹھکانے کو دیکھ لو اور اس چیز کو دیکھو جو اللہ نے تمہارے لیے تیار کر رکھی تھی اگر تم نافرمانی کرتے، تو اس سے اس کی خوشی اور سرور میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پھر اس کے لیے جنت کی طرف سے ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے: اپنے اصل ٹھکانے کو دیکھو اور اس چیز کو دیکھو جو اللہ نے تمہارے لیے تیار کر رکھی ہے، تو اس سے اس کی خوشی اور سرور مزید بڑھ جاتا ہے۔ اور یہی اللہ عزوجل کے اس فرمان کا مطلب ہے: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ﴾ [إبراهيم: 27]۔ راوی کہتے ہیں: ابوالحکم نے ابوہریرہ سے روایت کرتے ہوئے یہ بھی ذکر کیا کہ اسے کہا جاتا ہے: ”ایسے سو جاؤ جیسے وہ دلہن سوتی ہے جسے اس کے گھر والوں میں سے وہی جگاتا ہے جو اسے سب سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔“ پھر ابوسلمہ کی ابوہریرہ سے روایت کی طرف رجوع کرتے ہوئے فرمایا: ”اور اگر وہ کافر ہو تو اس کے سر کی طرف سے آیا جاتا ہے مگر وہاں کچھ نہیں ملتا، پھر دائیں، بائیں اور قدموں کی طرف سے آیا جاتا ہے مگر وہاں کچھ نہیں ملتا۔ اسے کہا جاتا ہے: بیٹھ جاؤ، تو وہ خوفزدہ ہو کر بیٹھتا ہے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے: تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو جو تم میں تھے؟ وہ کہتا ہے: کون سا شخص؟ وہ کہتے ہیں: محمد (ﷺ)، تو وہ کہتا ہے: میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تھا تو میں نے بھی ویسا ہی کہہ دیا۔ اسے کہا جاتا ہے: اسی پر تم زندہ رہے، اسی پر تمہیں موت آئی اور اسی پر تم ان شاء اللہ دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ پھر اس کے لیے جنت کی طرف سے ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے: اپنے اس ٹھکانے کو دیکھو جو اللہ نے تمہارے لیے تیار کیا تھا اگر تم اس کی اطاعت کرتے، تو اس سے اس کی حسرت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پھر اس کی قبر کو اس پر اتنا تنگ کر دیا جاتا ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں۔ اور یہی اللہ عزوجل کے اس فرمان کا مطلب ہے: ﴿فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾ [طه: 124]۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1419
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 1419] [ترقيم الشركة 1407]
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرةَ، عن النبي ﷺ قال: "والذي نَفْسي بيدِه، إنه ليَسْمَعُ خَفْقَ نِعالِهم حين يُوَلُّون عنه"، ثم ذكر الحديث بنحوه، إلّا أنَّ حديث سعيد بن عامر أَتمّ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے جب وہ اس سے پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوتے ہیں“، پھر راوی نے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت ذکر کی، سوائے اس کے کہ سعید بن عامر کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1420
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره كسابقه.» [ترقيم الرساله 1420] [ترقيم الشركة 1408]
حدثنا أبو بكر بن سَلْمان الفقيه، حدثنا أبو داود سليمان بن الأشعث، حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، في قوله - جلَّ وعزَّ -: ﴿مَعِيشَةً ضَنْكًا﴾ [طه: 124] قال: عذابُ القبر (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس ارشاد ﴿مَعِيشَةً ضَنْكًا﴾ ”تنگ زندگی“ [سورہ طہ: 124] کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: اس سے مراد قبر کا عذاب ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1421
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو: وهو الليثي. أبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن.» [ترقيم الرساله 1421] [ترقيم الشركة 1409]
حدثنا أبو بكر أحمد بن إبراهيم الفقيه الإسماعيلي، حدثنا أبو جعفر محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا هارون بن إسحاق الهَمْداني، حدثنا عَبْدةُ بن سليمان، عن هشام بن عُروة، عن وَهْب بن كَيْسان، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن أبي هريرة قال: خرج النبيُّ ﷺ على جنازةٍ ومعه عمر بن الخطاب، فسَمِعَ نساءً يَبكِينَ، فزَبَرَهنَّ عمرُ، فقال رسول الله ﷺ: "يا عمرُ، دَعْهنَّ، فإنَّ العينَ دامعةٌ، والنفْسَ مُصابةٌ، والعهدَ حديث (1) " (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک جنازے کے لیے نکلے اور آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، پس آپ ﷺ نے عورتوں کے رونے کی آواز سنی تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! انہیں رونے دو، کیونکہ آنکھ تو آنسو بہاتی ہے، جان صدمے میں ہے اور ابھی صدمہ تازہ ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1422
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 1422] [ترقيم الشركة 1410]