کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اس عمل کی رہنمائی جس کے ذریعے جنت کی مستحق ٹھہرا جاتا ہے۔
أخبرنا أبو العباس قاسم بن قاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقد، حدثنا الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرةَ، قال: جاء رجلٌ إلى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله، دُلَّني على عملٍ إذا أنا عَمِلتُ به أُدخِلتُ الجنةَ، قال: "كُنْ مُحسِنًا"، قال: كيف أَعلمُ أنِّي مُحسِنٌ؟ قال: "سَلْ جِيرانَكَ، فإن قالوا: إنك مُحسِن، فأنت مُحسِنٌ، وإن قالوا: إنك مُسيءٌ، فأنت مُسيء" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جسے کر کے میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نیکوکار بن جاؤ۔“ اس نے عرض کیا: میں کیسے جانوں کہ میں نیکوکار ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے پڑوسیوں سے پوچھو، اگر وہ کہیں کہ تم نیکوکار ہو تو تم نیکوکار ہو، اور اگر وہ کہیں کہ تم برے ہو تو تم برے ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن بن أحمد بن محمد بن عُبيدٍ الأَسَدي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا آدَم بن أبي إياس، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، حدثنا ثابتٌ البُناني، عن أنس بن مالكٍ قال: قيل: يا رسول الله، مَن أهلُ الجنة؟ قال: "مَن لا يَموتُ حتى تُملأَ أُذُناه مما يُحِبّ"، قيل: مَنْ أهلُ النار يا رسول الله؟ قال: "مَن لا يموتُ حتى تُملأَ أُذُناه مما يَكْره" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! اہل جنت کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جسے موت نہ آئے یہاں تک کہ اس کے کان ان باتوں سے بھر جائیں جو اسے پسند ہیں (یعنی اس کی تعریف)۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! اہل نار کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جسے موت نہ آئے یہاں تک کہ اس کے کان ان باتوں سے بھر جائیں جو اسے ناپسند ہیں (یعنی اس کی برائی)۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا أصْبَغ بن الفَرَج المِصري، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني يونس، عن ابن شهاب، أنَّ خارجة بن زيد أخبره، أنَّ أُمَّ العلاء - امرأةً من الأنصار قد بايَعَتْ رسول الله ﷺ أخبرته: أنهم اقتَسَموا المهاجرين (1) قُرْعةً، فطارَ لنا عثمانُ بن مَظعُون، فأنزلْناه في أبياتنا، فوَجِعَ وَجَعَه الذي مات فيه، فلما تُوفِّي غُسِّل وكُفِّن في أثوابه، دَخَلَ رسولُ الله ﷺ فقلت: يا عثمانُ بنَ مظعونٍ، رحمةُ الله عليكَ أبا السائب، فشهادتي عليك لقد أكرَمَكَ الله، فقال رسولُ الله ﷺ: "وما يُدريكِ أنَّ الله أكرَمَه؟ " فقالت: بأبي أنتَ وأمي يا رسول الله، فمَنْ؟ فقال رسولُ الله ﷺ: "أمّا هو فقد جاءَه اليقينُ، فوالله إنِّي لأرجو له الخير، واللهِ ما أَدري وأنا رسولُ الله ماذا يُفعَلُ بي" قالت: فواللهِ ما أُزكِّي بعدَه أحدًا أبدًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!.
حافظ طلحہ بابر
ام العلاء رضی اللہ عنہا - جو ایک انصاری خاتون ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی - بیان کرتی ہیں کہ جب انصار نے مہاجرین کو ٹھہرانے کے لیے قرعہ اندازی کی تو ہمارے حصے میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے، ہم نے انہیں اپنے گھروں میں ٹھہرایا، پھر وہ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں ان کا انتقال ہو گیا۔ جب وہ فوت ہو گئے، انہیں غسل دیا گیا اور ان کے کپڑوں میں کفنایا گیا تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ میں نے کہا: ”اے عثمان بن مظعون! تم پر اللہ کی رحمت ہو اے ابوسائب، میری تمہارے بارے میں گواہی ہے کہ یقیناً اللہ نے تمہیں معزز فرمایا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے انہیں معزز فرمایا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر اور کون ہوگا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تو ان کے پاس یقین (موت) آ چکا ہے، بخدا! میں ان کے لیے خیر کی امید رکھتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہو کر بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔“ ام العلاء کہتی ہیں: ”بخدا! میں اس کے بعد کبھی کسی کی پاکیزگی (حتمی طور پر) بیان نہیں کروں گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد الصَّنعاني، أخبرنا عبد الرزاق. وحدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني إملاءً، حدثنا أحمد بن نَجْدةَ القُرَشي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني ابن طاووس، عن أبيه: أنه كان يقول بعد التشهد كلماتٍ كان يُعظِّمهنَّ جدًّا، قلت: في الثَّنتين كلاهما؟ قال: بل في المثنَّى الآخِر بعد التشهد، قلت: ما هو؟ قال: "أعوذُ بالله من عذاب جهنم، وأعوذُ بالله من شَرِّ المسيح الدَّجّال، وأعوذُ بالله من عذاب القبر، وأعوذُ بالله من فتنة المَحْيا والمَمات"، قال: وكان يُعظِّمهنّ. قال ابن جريج: أخبَرَنيهِ عبد الله بن طاووس، عن أبيه، عن عائشة، عن النبي ﷺ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، في التعوُّذ من عذاب القبر، ولم يُخرجاه. وقد أمليتُ ما صحَّ على شرطهما في هذا الباب ممّا لم يُخرجاه في كتاب الإيمان، ولم أُمْلِ هذا الحديث.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، في التعوُّذ من عذاب القبر، ولم يُخرجاه. وقد أمليتُ ما صحَّ على شرطهما في هذا الباب ممّا لم يُخرجاه في كتاب الإيمان، ولم أُمْلِ هذا الحديث.
حافظ طلحہ بابر
طاؤس کے بیٹے (عبداللہ) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ تشہد کے بعد کچھ کلمات کہا کرتے تھے جنہیں وہ بہت اہمیت دیتے تھے۔ میں نے پوچھا: کیا دونوں (تشہد) میں؟ انہوں نے کہا: نہیں بلکہ آخری تشہد کے بعد۔ میں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عذاب الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے شر سے، اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے۔“ وہ ان کلمات کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن طاؤس نے اپنے والد کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت بتائی۔
یہ حدیث قبر کے عذاب سے پناہ مانگنے کے بارے میں شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ میں نے کتاب الایمان میں اس باب میں وہ احادیث املاء کروائی تھیں جو ان کی شرط پر صحیح تھیں مگر انہوں نے روایت نہیں کی تھیں، لیکن یہ حدیث وہاں املاء نہیں کروائی تھی۔
یہ حدیث قبر کے عذاب سے پناہ مانگنے کے بارے میں شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ میں نے کتاب الایمان میں اس باب میں وہ احادیث املاء کروائی تھیں جو ان کی شرط پر صحیح تھیں مگر انہوں نے روایت نہیں کی تھیں، لیکن یہ حدیث وہاں املاء نہیں کروائی تھی۔