المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
تَرْسِيلُ الطَّعَامِ لِأَهْلِ الْمَيِّتِ باب: میت کے گھر والوں کے لیے کھانا بھیجنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1393
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا جعفر بن خالد بن سارةَ المخزومي، أخبرني أبي - وكان صديقًا لعبد الله بن جعفر - أنه سَمِعَ عبد الله بن جعفر قال: لما نُعيَ جعفرٌ، قال النبيُّ ﷺ: "اصنَعوا لآلِ جعفرٍ طعامًا، فقد أتاهم أمرٌ يَشغَلُهم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وجعفر بن خالد بن سارةَ من أكابر مشايخ قريش، وهو كما قال شعبة: اكتُبوا عن الأشراف فإنهم لا يَكذِبون، وقد رَوَى غيرَ هذا الحديث مفسَّرًا:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب جعفر (رضی اللہ عنہ) کی شہادت کی خبر آئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ ان پر ایسا معاملہ آ پڑا ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور جعفر بن خالد بن سارہ قریش کے اکابر مشائخ میں سے ہیں، ان کے بارے میں شعبہ نے کہا ہے کہ اشراف سے حدیث لکھا کرو کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بولتے۔ انہوں نے اس کے علاوہ ایک مفصل حدیث بھی روایت کی ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل خالد بن سارة المخزومي، فقد روى عنه ابنه جعفر وعطاء بن أبي رباح، وهما ثقتان، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وحسّن له الترمذي حديثه هذا، وقال الذهبي في "الميزان" في ترجمته: يكفيه أنه روى عنه أيضًا عطاء. الحميدي: هو عبد الله بن الزبير، وسفيان: هو ابن عيينة.
درجۂ حدیث: (2) خالد بن سارہ کی وجہ سے سند حسن ہے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور ذہبی نے بھی ان کی توثیق کی تائید کی ہے۔ الحمیدی سے مراد عبداللہ بن زبیر ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1751)، وأبو داود (3132)، وابن ماجه (1610)، والترمذي (998) من طريق سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (1751/3)، ابوداؤد (3132)، ابن ماجہ اور ترمذی (998) نے سفیان بن عیینہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (2) خالد بن سارہ کی وجہ سے سند حسن ہے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور ذہبی نے بھی ان کی توثیق کی تائید کی ہے۔ الحمیدی سے مراد عبداللہ بن زبیر ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1751)، وأبو داود (3132)، وابن ماجه (1610)، والترمذي (998) من طريق سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (1751/3)، ابوداؤد (3132)، ابن ماجہ اور ترمذی (998) نے سفیان بن عیینہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1393 سے ماخوذ ہے۔