حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا أبو جعفر محمد بن عبد الله الحَضْرَمي، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمَير وأبو كُرَيب، قالا: حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش عن الحَكَم، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، قال: جاء أبو موسى الأشعري يعودُ الحسنَ بن علي، فقال له علي: أجئتَ عائدًا أم شامتًا؟ فقال: بل جئتُ عائدًا، فقال علي: إن جئتَ عائدًا، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَن أتى أخاه عائدًا، فهو في خِرَافةِ الجنة، فإذا جلس غَمَرتْه الرحمة، وإن كان غُدْوةً صلَّى عليه سبعونَ ألفَ مَلَكٍ حتى يُمسِي، وإن كان مُمسيًا صلَّى عليه سبعونَ ألفَ ملكٍ حتى يُصبِح" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لخلاف على الحكم فيه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لخلاف على الحكم فيه.
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی عیادت کے لیے آئے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ”کیا تم عیادت کے لیے آئے ہو یا دشمنی کی بنا پر دیکھنے آئے ہو؟“ انہوں نے کہا: بلکہ میں عیادت کے لیے آیا ہوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم عیادت کے لیے آئے ہو تو سنو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اپنے بھائی کی عیادت کے لیے جاتا ہے وہ جنت کے باغات میں چنے ہوئے پھلوں کے درمیان ہوتا ہے، جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو اسے رحمت ڈھانپ لیتی ہے، اگر وہ صبح کا وقت ہو تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں، اور اگر وہ شام کا وقت ہو تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن حکم بن عتیبہ کے بارے میں اختلاف کی وجہ سے انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن حکم بن عتیبہ کے بارے میں اختلاف کی وجہ سے انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا علي بن العباس البَجَلي، حدثنا محمد بن بشَّار، حدثنا ابن أبي عَدِيٍّ، حدثنا شعبة، عن الحَكَم، عن عبد الله بن نافع قال: عادَ أبو موسى الأشعريُّ الحسنَ بنَ عليٍّ وعنده عليٌّ، فقال علي: أزائرًا جئتَ أم عائدًا؟ [قال: عائدٌ] (2)، فقال علي: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ما مِن مسلمٍ يَعودُ مريضًا إلا خرج معه سبعونَ ألفَ مَلَكٍ يُشيَّعونَه، إن كان مُصبِحًا حتى يُمسِي، وكان له خَرِيفٌ من الجنة، وإن كان ممسيًا شيَّعه سبعونَ ألفَ مَلَكٍ حتى يُصبح، وكان له خَرِيفٌ من الجنة" (3). هذا من النوع الذي ذكرتُه غيرَ مرة: أنَّ هذا لا يُعلِّل ذاك، فإنَّ أبا معاوية أحفظُ أصحاب الأعمش، والأعمشُ أعرف بحديث الحَكَم من غيره.
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی عیادت کی جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا تم زیارت کے لیے آئے ہو یا عیادت کے لیے؟“ انہوں نے کہا: عیادت کے لیے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی مسلمان کسی مریض کی عیادت کرتا ہے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے رخصت کرنے کے لیے نکلتے ہیں، اگر وہ صبح کے وقت جائے تو وہ شام تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوگا، اور اگر وہ شام کو جائے تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے ساتھ رہتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوگا۔“
یہ اس نوعیت کی حدیث ہے جس کا میں نے بارہا ذکر کیا ہے کہ ایک روایت دوسری کی علت نہیں بنتی، کیونکہ ابو معاوية اعمش کے شاگردوں میں سب سے زیادہ حفظ والے ہیں اور اعمش دوسروں کی نسبت حکم کی حدیث کو زیادہ بہتر جانتے ہیں۔
یہ اس نوعیت کی حدیث ہے جس کا میں نے بارہا ذکر کیا ہے کہ ایک روایت دوسری کی علت نہیں بنتی، کیونکہ ابو معاوية اعمش کے شاگردوں میں سب سے زیادہ حفظ والے ہیں اور اعمش دوسروں کی نسبت حکم کی حدیث کو زیادہ بہتر جانتے ہیں۔
أخبرنا إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا هُشَيم، عن عبد الحميد بن جعفر، عن عمر بن الحَكَم بن ثَوبان، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن عادَ مريضًا لم يَزَلْ يخُوض الرَّحمةَ حتى يَجِلس، فإذا جَلَسَ اغْتَمَسَ فيها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے وہ (وہاں پہنچنے تک) مسلسل رحمت میں غوطہ زن رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بیٹھ جائے، اور جب وہ (مریض کے پاس) بیٹھ جاتا ہے تو اس رحمت میں پوری طرح ڈوب جاتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔