حدیث نمبر: 1311
أخبرنا إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا هُشَيم، عن عبد الحميد بن جعفر، عن عمر بن الحَكَم بن ثَوبان، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن عادَ مريضًا لم يَزَلْ يخُوض الرَّحمةَ حتى يَجِلس، فإذا جَلَسَ اغْتَمَسَ فيها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے وہ (وہاں پہنچنے تک) مسلسل رحمت میں غوطہ زن رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بیٹھ جائے، اور جب وہ (مریض کے پاس) بیٹھ جاتا ہے تو اس رحمت میں پوری طرح ڈوب جاتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1311
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 1311] [ترقيم الشركة 1299]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه ضعفٌ الاضطرابه، عبد الحميد بن جعفر وإن كان من جملة الثقات، قال فيه ابن حبان ربما أخطأ، وقال ابن حجر: ربما وهم. وقد اختلف عليه في هذا الإسناد، فرواه هنا عن عمر بن الحكم، ورواه مرةً عن أمّه عن عمر بن الحكم، ومرةً عن أبيه، وصرَّح مرةً بالسماع من عمر بن الحكم عند ابن عبد البر في "التمهيد" 24/ 274، لكن قال ابن عبد البر عقبه: لم يسمعه عبد الحميد من عمر بن الحكم، وإنما رواه عن أمّه عنه. انتهى، وقد اختلف فيه على عمر بن الحكم أيضًا، فرواه بعضهم عنه عن كعب بن مالك، وقال بعضهم: كعب بن عُجرة، وقد فصّلنا تخريج ذلك في تعليقنا على "مسند أحمد".
فنی نکتہ: ابوموجہ سے مراد محمد بن عمرو الفزاری، اسماعیل سے مراد ابن علیہ اور حسن سے مراد حسن بصری ہیں۔
فقد أخرجه أحمد 22/ (14260) عن هشيم بن بشير، وكذا ابن حبان (2956) من طريق سريج بن يونس، عن هشيم بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اسے عبداللہ بن احمد نے مسند احمد کے اضافات (21240/35) میں حمید الطویل عن حسن بصری عن عتی عن ابی بن کعب کے واسطے سے موقوفاً (صحابی کا قول) روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 25/ (15797) من طريق أبي معشر، عن عبد الرحمن بن عبد الله الأنصاري، عن عمر بن الحكم بن ثوبان، عن كعب بن مالك. وأبو معشر - وهو نجيح بن عبد الرحمن - ضعيف.
تکرار: یہ آگے عتی کے ذکر کے بغیر اور مختصراً نمبر (3075، 4042، 4048) پر آئے گی۔
وفي الباب عن أنس بن مالك، أخرجه أحمد في "المسند" 20/ (12782)، وذكرنا هناك تتمة شواهده.
فنی نکتہ: (2) بلکہ ان سے ان کے بیٹے عبداللہ بن عتی نے بھی روایت کی ہے جیسا کہ یحییٰ بن معین سے منقول ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1311 سے ماخوذ ہے۔