کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: عیدالفطر کے دن نماز کے لیے جانے سے پہلے چند کھجوروں سے روزہ افطار کرنا۔
أخبرني أبو عون محمدُ بن أحمد بن ماهان الجزَّار على الصَّفا، حدثنا علي بن عبد العزيز عن عَمرو بن عَون، حدثنا هُشَيم، عن محمد بن إسحاق، عن حفص بن عبيد الله بن أنس، عن أنس قال: كان رسول الله ﷺ يُفطِر يومَ الفطر على تمَرات قبل أن يَغدُو (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1089 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1089 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن (عیدگاہ) جانے سے پہلے چند کھجوریں تناول فرمایا کرتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی ان کی شرط پر موجود ہے:
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی ان کی شرط پر موجود ہے:
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا أحمد بن زُهير. وأخبرنا أبو عَون الجزَّار بمكة، حدثنا علي بن عبد العزيز؛ قالا: حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل، حدثنا زهير، حدثنا عُتبةُ بن حُميد الضَّبِّي، حدثنا عبيد الله بن أبي بكر بن أنس، قال: سمعتُ أنسًا يقول: ما خَرَجَ رسول الله ﷺ يومَ فطرٍ حتى يأكل تَمَراتٍ ثلاثًا أو خمسًا أو سبعًا، أو أقلَّ من ذلك أو أكثر من ذلك وِترًا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1090 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1090 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن اس وقت تک (نماز کے لیے) نہیں نکلتے تھے جب تک تین، پانچ، سات یا اس سے کم یا زیادہ طاق تعداد میں کھجوریں نہ کھا لیتے۔
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن حُميد، عن أنس قال: قَدِمَ رسولُ الله ﷺ المدينةَ ولهم يومان يلعبون فيهما، فقال: "ما هذانِ اليومانِ؟ " قالوا: يومانِ كنا نلعبُ بهما في الجاهلية، فقال رسول الله ﷺ: "إنَّ الله قد أبدَلَكم بهما خيرًا منهما: يومَ الأضحى، ويومَ الفِطْر" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1091 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1091 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگوں کے (سال میں) دو دن مقرر تھے جن میں وہ کھیل کود کیا کرتے تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ دو دن کیسے ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: جاہلیت میں ہم ان دنوں میں کھیل کود کیا کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرما دیے ہیں: عید الاضحیٰ اور عید الفطر۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔