المستدرك على الصحيحين
كتاب صلاة العيدين— عیدین کی نماز کا بیان
يُفْطِرُ يَوْمَ الْفِطْرِ عَلَى تَمَرَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ باب: عیدالفطر کے دن نماز کے لیے جانے سے پہلے چند کھجوروں سے روزہ افطار کرنا۔
حدیث نمبر: 1103
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن حُميد، عن أنس قال: قَدِمَ رسولُ الله ﷺ المدينةَ ولهم يومان يلعبون فيهما، فقال: "ما هذانِ اليومانِ؟ " قالوا: يومانِ كنا نلعبُ بهما في الجاهلية، فقال رسول الله ﷺ: "إنَّ الله قد أبدَلَكم بهما خيرًا منهما: يومَ الأضحى، ويومَ الفِطْر" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1091 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگوں کے (سال میں) دو دن مقرر تھے جن میں وہ کھیل کود کیا کرتے تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ دو دن کیسے ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: جاہلیت میں ہم ان دنوں میں کھیل کود کیا کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرما دیے ہیں: عید الاضحیٰ اور عید الفطر۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. موسى بن إسماعيل: هو التَّبوذكي، وحماد: هو ابن سلمة، وحميد: هو ابن أبي حميد الطويل.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ حماد سے مراد ابن سلمہ اور حمید سے مراد الطویل ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1134) عن موسى بن إسماعيل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1134) نے موسیٰ بن اسماعیل کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 19/ (12006) و 20/ (12827) و 21/ (13470) و (13622)، والنسائي (1767) من طرق عن حميد الطويل، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد اور نسائی (1767) نے حمید الطویل کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ حماد سے مراد ابن سلمہ اور حمید سے مراد الطویل ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1134) عن موسى بن إسماعيل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1134) نے موسیٰ بن اسماعیل کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 19/ (12006) و 20/ (12827) و 21/ (13470) و (13622)، والنسائي (1767) من طرق عن حميد الطويل، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد اور نسائی (1767) نے حمید الطویل کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1103 سے ماخوذ ہے۔