أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا أبو المغيرة، حدثنا صفوان بن عَمرو (1)، حدثنا يزيد بن خُمَير (2) الرَّحَبي، قال: خرج عبد الله بن بُسْر صاحب النبي ﷺ مع الناس في يوم عيد فطرٍ أو أضحى، فأنكر إبطاءَ الإمام، وقال: إنا كنا مع النبي ﷺ قد فَرَغْنا ساعتَنا هذه، وذلك حينَ (3) التَّسبيحِ (4).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1092 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1092 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
یزید بن خمیر رحبی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے دن لوگوں کے ساتھ (عیدگاہ) نکلے، تو انہوں نے امام کی تاخیر پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فرمایا: ہم تو نبی کریم ﷺ کے ساتھ اس وقت (نماز سے) فارغ ہو جایا کرتے تھے، اور وہ نفل (اشراق) کا وقت ہوتا تھا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو محمد الحسن بن محمد بن حَلِيم المَرْوَزي، أخبرنا أبو المُوجِّه، حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا الفضل بن موسى، حدثنا ابن جُرَيج، عن عطاء، عن عبد الله بن السائب قال: شهدتُ مع رسول الله ﷺ، العيد، فلما قضَى الصلاة قال: "إنّا نَخطُب، فمَن أحبَّ أن يجلس للخُطبة فليجلس، ومَن أحبَّ أن يذهبَ فليذهب" (5).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وهو معنى الحديث الذي يُسأل عنه في الأعياد، إلّا أنه عن ابن عباس (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1093 - على شرط الشيخين
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وهو معنى الحديث الذي يُسأل عنه في الأعياد، إلّا أنه عن ابن عباس (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1093 - على شرط الشيخين
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا، جب آپ ﷺ نماز مکمل کر چکے تو فرمایا: ”ہم (اب) خطبہ دیں گے، پس جو شخص خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا چاہے وہ بیٹھ جائے اور جو جانا چاہے وہ چلا جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ اسی حدیث کے مفہوم میں ہے جو عیدین کے بارے میں پوچھی جاتی ہے، مگر وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ اسی حدیث کے مفہوم میں ہے جو عیدین کے بارے میں پوچھی جاتی ہے، مگر وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔