أخبرنا أبو بكر بن أبي نصر الدَّارَبردي بمَرْو، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا الفضل بن موسى، أخبرنا عبد الحميد بن جعفر، عن يزيدَ بن أبي حبيب، عن عطاء، عن ابن عمر قال: كان إذا كان بمكة فصلى الجمعةَ تقدم فصلى ركعتين، ثم تقدم فصلى أربعًا، فإذا كان بالمدينة صلى الجمعة، ثم رجع إلى بيته فصلى ركعتين، ولم يُصلِّ في المسجد، فقيل له، فقال: كان رسولُ الله ﷺ يفعلُ ذلك (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث ابن عمر في الركعتين في بيته (2)، ولمسلمٍ وحدَه: كان يُصلي بعد الجمعة أربعًا (3). وقد تابع ابنُ جريج يزيدَ بنَ أبي حبيب على روايته عن عطاء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1072 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث ابن عمر في الركعتين في بيته (2)، ولمسلمٍ وحدَه: كان يُصلي بعد الجمعة أربعًا (3). وقد تابع ابنُ جريج يزيدَ بنَ أبي حبيب على روايته عن عطاء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1072 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت ہے کہ جب وہ مکہ میں ہوتے اور جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر مزید آگے بڑھ کر چار رکعتیں پڑھتے، لیکن جب مدینہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھنے کے بعد اپنے گھر لوٹ جاتے اور وہیں دو رکعتیں پڑھتے اور مسجد میں نفل نہ پڑھتے، جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے گھر میں دو رکعتیں پڑھنے والی ابن عمر کی حدیث پر اتفاق کیا ہے، اور اکیلے امام مسلم نے یہ روایت کی ہے کہ آپ ﷺ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے گھر میں دو رکعتیں پڑھنے والی ابن عمر کی حدیث پر اتفاق کیا ہے، اور اکیلے امام مسلم نے یہ روایت کی ہے کہ آپ ﷺ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھتے تھے۔
هكذا أخبرناه أبو بكر بنُ إسحاق الفقيه، أخبرنا إبراهيم بن إسحاق الأنماطيّ، حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا حجاج بن محمد، عن ابن جُريج، قال: أخبرني عطاء أنه رأى ابنَ عمر يُصلي يومَ الجمعة، فيتقدَّمُ عن مُصلَّاه الذي صلى فيه الجمعةَ قليلًا غيرَ كثير، فيركعُ ركعتين، قال: ثم يمشي أنفسَ من ذلك، فيركعُ أربع ركعات، قلتُ لعطاء: كم رأيتَ ابنَ عمر يصنعُ ذلك؟ قال: مِرارًا (1).
حافظ طلحہ بابر
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن اس جگہ سے جہاں انہوں نے جمعہ پڑھا ہوتا تھوڑا سا آگے بڑھتے اور دو رکعتیں پڑھتے، پھر اس سے بھی کچھ زیادہ فاصلے پر چل کر جاتے اور چار رکعتیں پڑھتے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا: آپ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کتنی بار ایسا کرتے دیکھا؟ انہوں نے کہا: کئی مرتبہ۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بنُ يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد، عن عبد الله بن وَدِيعة (2)، عن أبي ذَرٍّ، عن النبي ﷺ قال: "مَن اغتسل يومَ الجمعة فأحسن الغُسلَ، وتطهَّر فأحسن الطُّهور، ولَبِس من خير ثيابه، ومسَّ ما كَتَبَ الله له من طِيبِ أو دُهنِ أهله، ولم يفرِّقْ بين اثنين، إلّا غُفِرَ له إلى الجمعة الأخرى" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1074 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1074 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا اور خوب اچھی طرح غسل کیا، اور پاکیزگی حاصل کی اور بہترین طریقے سے طہارت کی، اور اپنے بہترین کپڑے پہنے، اور اللہ نے اس کے لیے جو خوشبو یا اپنے گھر والوں کا تیل مقدر کیا ہو اسے لگایا، اور (مسجد میں) دو آدمیوں کے درمیان تفریق نہ کی (یعنی صف چیر کر آگے نہ جائے)، تو اس کے لیے اگلے جمعہ تک (کے گناہ) معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكْرَمٍ، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا عيسى بن يونس، عن محمد بن إسحاق، عن نافع، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا نَعَس أحدُكم يومَ الجمعة في مجلِسه، فليتحوَّلْ من مجلسِه ذلك" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1075 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1075 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس وقت تم میں سے کسی کو جمعہ کے دن اپنی جگہ بیٹھے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی اس جگہ کو بدل لے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبةَ القاضي بمصر، حدثنا أبو داود الطيالسي، حدثنا ابن أبي ذئب، عن مسلم بن جُندُب، عن الزُّبير بن العوَّام قال: كنا نصلي الجمعةَ مع رسول الله ﷺ فكنَّا نبتدِرُ الفيءَ، فما يكون إلّا قَدْر قدم أو قدمين (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما خرَّج البخاري عن أبي خَلْدة عن أنس بغير هذا اللفظ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1076 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما خرَّج البخاري عن أبي خَلْدة عن أنس بغير هذا اللفظ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1076 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم سائے کی طرف تیزی سے بڑھتے لیکن وہ سایہ صرف ایک یا دو قدم کے برابر ہی ہوتا تھا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام بخاری نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے علاوہ دوسری طرح روایت کیا ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام بخاری نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے علاوہ دوسری طرح روایت کیا ہے۔