کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: ذکرِ الٰہی میں حاضر ہونے اور امام کے قریب بیٹھنے کا حکم۔
أخبرنا بكر (2) بن محمد بن حَمْدان الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا عليُّ بن المدِينيّ، حدثني معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قتادة، عن يحيى بن مالك، عن سَمُرة بن جُندُب، أنَّ نبيَّ الله ﷺ قال: "احضُروا الذِّكْر، وادْنُوا من الإمام، فإنَّ الرجلَ لا يزالُ يَتباعدُ حتى يُؤخِّرَ في الجنة وإن دَخَلَها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1068 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1068 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ذکر (خطبہ) میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب رہا کرو، کیونکہ آدمی (جمعہ سے پیچھے رہ کر) مسلسل دور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے جنت میں بھی پیچھے کر دیا جائے گا اگرچہ وہ اس میں داخل ہو چکا ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا عبد الله بن يَزيد المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثني أبو مَرْحُوم، عن سَهْل بن معاذ بن أنس الجُهَني، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن الحُبْوةِ يومَ الجُمعة، والإمامُ يخطُب (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1069 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1069 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن معاذ بن انس جہنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو تو «حبوه» ”دو زانو بیٹھ کر گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ لگا کر کپڑے یا ہاتھوں سے لپیٹ لینے“ سے منع فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا جرير بن حازم، عن ثابت، عن أنس، قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يَنزِلُ من المنبَرِ فيَعرِضُ له الرجلُ في الحاجة، فيقومُ معه حتى يقضيَ حاجتَه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1070 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1070 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لا رہے ہوتے تو کوئی شخص اپنی کسی ضرورت کے لیے آپ ﷺ کے سامنے آ جاتا، پس آپ ﷺ اس کے ساتھ کھڑے رہتے یہاں تک کہ اس کی ضرورت پوری کر دیتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني مَخلَد بن جعفر الباقَرْحي، حدثنا جعفر بن محمد الفِرْيابي، حدثنا زهير بن حرب، حدثنا هُشَيم، أخبرنا يحيى بن سعيد، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: صلَّى رسولُ الله ﷺ في حُجرته والناسُ يأتمُّون به من وراءِ الحُجرة (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1071 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1071 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجرے میں نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے پیچھے سے آپ ﷺ کی اقتدا کر رہے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔