المستدرك على الصحيحين
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
سِتُّ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے بعد چھ رکعت نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1088
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبةَ القاضي بمصر، حدثنا أبو داود الطيالسي، حدثنا ابن أبي ذئب، عن مسلم بن جُندُب، عن الزُّبير بن العوَّام قال: كنا نصلي الجمعةَ مع رسول الله ﷺ فكنَّا نبتدِرُ الفيءَ، فما يكون إلّا قَدْر قدم أو قدمين (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما خرَّج البخاري عن أبي خَلْدة عن أنس بغير هذا اللفظ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1076 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم سائے کی طرف تیزی سے بڑھتے لیکن وہ سایہ صرف ایک یا دو قدم کے برابر ہی ہوتا تھا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام بخاری نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے علاوہ دوسری طرح روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلا أنه منقطع، مسلم بن جندب لم يدرك الزبير بن العوام، بينهما واسطة كما سيأتي.
درجۂ حدیث: (2) "صحیح لغیرہ" ہے مگر یہ سند "منقطع" ہے کیونکہ مسلم بن جندب کا حضرت زبیر سے سماع ثابت نہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1411) عن يزيد بن هارون، عن ابن أبي ذئب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (1411/3) نے یزید بن ہارون عن ابن ابی ذئب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (1436) عن يحيى بن آدم، عن ابن أبي ذئب، عن مسلم بن جندب قال: حدثني من سمع الزبير بن العوام يقول … فذكره. وهذا إسناد ضعيف أيضًا لإبهام الواسطة بين مسلم والزبير. لكن يشهد له حديث سلمة بن الأكوع في "الصحيحين": البخاري (4168)، ومسلم (860)
قال: كنا نصلي مع النبي ﷺ الجمعة، ثم ننصرف وليس للحيطان ظل نستظل فيه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (1436) نے یحییٰ بن آدم کی سند سے "مبہم واسطے" کے ساتھ روایت کیا ہے۔
متابعات و شواہد: البتہ سلمہ بن الاکوع کی صحیحین کی حدیث اس کی شاہد ہے کہ: "ہم جمعہ پڑھ کر نکلتے تو دیواروں کا اتنا سایہ نہیں ہوتا تھا کہ اس میں بیٹھیں"۔
(1) "صحيح البخاري" (906)، ولفظه عن أنس قال: كان النبي ﷺ إذا اشتد البرد بكَّر بالصلاة، وإذا اشتدَّ الحر أبرد بالصلاة؛ يعني الجمعة.
حوالہ / مصدر: (1) صحیح بخاری (906) میں حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سردی میں جمعہ سویرے پڑھتے اور گرمی میں اسے ٹھنڈا کر کے (تاخیر سے) پڑھتے تھے۔
درجۂ حدیث: (2) "صحیح لغیرہ" ہے مگر یہ سند "منقطع" ہے کیونکہ مسلم بن جندب کا حضرت زبیر سے سماع ثابت نہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1411) عن يزيد بن هارون، عن ابن أبي ذئب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (1411/3) نے یزید بن ہارون عن ابن ابی ذئب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (1436) عن يحيى بن آدم، عن ابن أبي ذئب، عن مسلم بن جندب قال: حدثني من سمع الزبير بن العوام يقول … فذكره. وهذا إسناد ضعيف أيضًا لإبهام الواسطة بين مسلم والزبير. لكن يشهد له حديث سلمة بن الأكوع في "الصحيحين": البخاري (4168)، ومسلم (860)
قال: كنا نصلي مع النبي ﷺ الجمعة، ثم ننصرف وليس للحيطان ظل نستظل فيه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (1436) نے یحییٰ بن آدم کی سند سے "مبہم واسطے" کے ساتھ روایت کیا ہے۔
متابعات و شواہد: البتہ سلمہ بن الاکوع کی صحیحین کی حدیث اس کی شاہد ہے کہ: "ہم جمعہ پڑھ کر نکلتے تو دیواروں کا اتنا سایہ نہیں ہوتا تھا کہ اس میں بیٹھیں"۔
(1) "صحيح البخاري" (906)، ولفظه عن أنس قال: كان النبي ﷺ إذا اشتد البرد بكَّر بالصلاة، وإذا اشتدَّ الحر أبرد بالصلاة؛ يعني الجمعة.
حوالہ / مصدر: (1) صحیح بخاری (906) میں حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سردی میں جمعہ سویرے پڑھتے اور گرمی میں اسے ٹھنڈا کر کے (تاخیر سے) پڑھتے تھے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1088 سے ماخوذ ہے۔