حدیث نمبر: 1084
أخبرنا أبو بكر بن أبي نصر الدَّارَبردي بمَرْو، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا الفضل بن موسى، أخبرنا عبد الحميد بن جعفر، عن يزيدَ بن أبي حبيب، عن عطاء، عن ابن عمر قال: كان إذا كان بمكة فصلى الجمعةَ تقدم فصلى ركعتين، ثم تقدم فصلى أربعًا، فإذا كان بالمدينة صلى الجمعة، ثم رجع إلى بيته فصلى ركعتين، ولم يُصلِّ في المسجد، فقيل له، فقال: كان رسولُ الله ﷺ يفعلُ ذلك (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث ابن عمر في الركعتين في بيته (2)، ولمسلمٍ وحدَه: كان يُصلي بعد الجمعة أربعًا (3). وقد تابع ابنُ جريج يزيدَ بنَ أبي حبيب على روايته عن عطاء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1072 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت ہے کہ جب وہ مکہ میں ہوتے اور جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر مزید آگے بڑھ کر چار رکعتیں پڑھتے، لیکن جب مدینہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھنے کے بعد اپنے گھر لوٹ جاتے اور وہیں دو رکعتیں پڑھتے اور مسجد میں نفل نہ پڑھتے، جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے گھر میں دو رکعتیں پڑھنے والی ابن عمر کی حدیث پر اتفاق کیا ہے، اور اکیلے امام مسلم نے یہ روایت کی ہے کہ آپ ﷺ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھتے تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجمعة / حدیث: 1084
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعطاء: هو ابن أبي رباح» [ترقيم الرساله 1084] [ترقيم الشركة 1076] [ترقيم العلميه 1072]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعطاء: هو ابن أبي رباح.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ ابوموجہ سے مراد محمد الفزاری اور عطاء سے مراد ابن ابی رباح ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1130) عن محمد بن عبد العزيز بن أبي رِزمَة المروزي، عن الفضل بن موسى، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1130) نے محمد بن عبدالعزیز عن الفضل بن موسیٰ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما بعده.
فنی نکتہ: اس کے بعد والی روایت بھی دیکھیں۔
(2) أخرجه البخاري (937) و (1172)، ومسلم (882) (70) و (71) من طريق نافع عن ابن عمر.
حوالہ / مصدر: (2) اسے بخاری (937) اور مسلم (882) نے نافع عن ابن عمر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج البخاري (1165) من طريق سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه قال: صليت مع رسول الله ﷺ ركعتين قبل الظهر، وركعتين بعد الظهر، وركعتين بعد الجمعة، وركعتين بعد المغرب، وركعتين بعد العشاء. وهو عند مسلم (882) (72) من هذا الطريق في ركعتي الجمعة فقط.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (1165) نے سالم عن ابن عمر سے ظہر، مغرب، عشاء اور جمعہ کے بعد دو دو رکعتوں کے ذکر کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) لم يخرج ذلك مسلم عن ابن عمر، وإنما روى أبو داود والترمذي عنه أنه كان يصلي بعدها

ركعتين ثم أربعًا، يعني ست ركعات، كما في الحديث التالي.

علّت / فنی نکتہ: (3) امام مسلم نے حضرت ابن عمر سے یہ (چار رکعت والی بات) روایت نہیں کی، بلکہ ابوداؤد اور ترمذی نے ان سے "چھ رکعت" (پہلے دو پھر چار) روایت کی ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1084 سے ماخوذ ہے۔