کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نماز میں جوتے نہ دائیں جانب رکھے جائیں نہ بائیں، بلکہ دونوں پاؤں کے درمیان رکھے جائیں۔
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا أبو عامر الخَزَّاز [عن عبد الرحمن بن قيس] (2) عن يوسف بن ماهَكَ، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إذا صلَّى أحدُكم فلا يَضَعْ نَعلَيهِ عن يمينِه وعن يسارِه، إلَّا أن لا يكون عن يسارِه أحدٌ، وليَضَعْهما بين رِجلَيهِ" (3). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 954 - على شرطهما
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 954 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے اپنی دائیں یا بائیں جانب نہ رکھے، الا یہ کہ بائیں جانب کوئی دوسرا نمازی نہ ہو، ورنہ انہیں اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھے۔"
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حمَّاد بن سَلَمة، عن أبي نَعَامة، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رسول الله ﷺ صَلَّى فَخَلَعَ نَعلَيهِ فَخَلَعَ الناسُ نعالَهم، فلما انصرف قال: "لِمَ خلعتُم نعالَكم؟ " قالوا: يا رسول الله، رأيناك خلعتَ فخَلَعْنا، قال: "إنَّ جبريل أتاني فأخبرني أنَّ بهما خَبَثًا، فإذا جاء أحدُكم المسجدَ، فليَقلِبْ نعلَيهِ فليَنظُرْ: فيهما خبثٌ، فإن وَجَدَ خَبَثًا فليَمسَحْهما بالأرض ثم ليُصلِّ فيهما" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 955 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 955 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی اور دورانِ نماز اپنے جوتے اتار دیے، لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو پوچھا: "تم نے اپنے جوتے کیوں اتارے؟" انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو جوتے اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی اتار دیے۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "میرے پاس جبرائیل آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ان میں گندگی لگی ہوئی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو اپنے جوتے پلٹ کر دیکھ لے، اگر ان میں گندگی لگی ہو تو اسے زمین سے رگڑ کر صاف کر لے اور پھر ان میں نماز پڑھ لے۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذانَ، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا مروان بن معاوية الفَزَاري، عن هلال بن ميمون الرَّمْلي، عن يعلى بن شدَّاد بن أوس، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "خالِفوا اليهودَ، فإنهم لا يُصلُّونَ في خِفافِهم ولا نِعالِهم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 956 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 956 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "یہودیوں کی مخالفت کرو، کیونکہ وہ اپنے موزوں اور جوتوں میں نماز نہیں پڑھتے۔"
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔