حدیث نمبر: 968
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حمَّاد بن سَلَمة، عن أبي نَعَامة، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رسول الله ﷺ صَلَّى فَخَلَعَ نَعلَيهِ فَخَلَعَ الناسُ نعالَهم، فلما انصرف قال: "لِمَ خلعتُم نعالَكم؟ " قالوا: يا رسول الله، رأيناك خلعتَ فخَلَعْنا، قال: "إنَّ جبريل أتاني فأخبرني أنَّ بهما خَبَثًا، فإذا جاء أحدُكم المسجدَ، فليَقلِبْ نعلَيهِ فليَنظُرْ: فيهما خبثٌ، فإن وَجَدَ خَبَثًا فليَمسَحْهما بالأرض ثم ليُصلِّ فيهما" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 955 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی اور دورانِ نماز اپنے جوتے اتار دیے، لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو پوچھا: "تم نے اپنے جوتے کیوں اتارے؟" انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو جوتے اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی اتار دیے۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "میرے پاس جبرائیل آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ان میں گندگی لگی ہوئی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو اپنے جوتے پلٹ کر دیکھ لے، اگر ان میں گندگی لگی ہو تو اسے زمین سے رگڑ کر صاف کر لے اور پھر ان میں نماز پڑھ لے۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 968
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو نضرة: هو المنذر بن مالك بن قِطْعة» [ترقيم الرساله 968] [ترقيم الشركة 961] [ترقيم العلميه 955]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو نضرة: هو المنذر بن مالك بن قِطْعة.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابونضرہ سے مراد المنذر بن مالک بن قطعہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 17/ (11153) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (11153/17) نے یزید بن ہارون کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 18/ (11877)، وأبو داود (650)، وابن حبان (2185) من طرق عن حماد بن سلمة، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (11877/18)، ابوداؤد (650) اور ابن حبان (2185) نے حماد بن سلمہ کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 968 سے ماخوذ ہے۔